.

اقوام متحدہ کی مجوزہ قرارداد میں غزہ میں جنگ بندی پر زور

عالمی برادری سے دیرینہ تنازعے کے تصفیے کے لیے کوششیں تیز کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب ممالک نے غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی فوجی جارحیت رکوانے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مجوزہ قرارداد کا مسودہ پیش کیا ہے۔اس میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بگڑتی ہوئی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور فریقین کے درمیان فوری جنگ بندی پر زور دیا گیا ہے۔

نیویارک میں العربیہ کے بیورو چیف طلال الحاج نے بتایا ہے کہ مجوزہ مسودے میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان عشروں پر محیط دیرینہ تنازعے کے حل کے لیے بین الاقوامی کوششیں تیز کرنے پر زوردیا گیا ہے۔

مجوزہ قرارداد میں فلسطینی علاقوں میں فوری اور پائیدار جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے اور فریقین سے کہا گیا ہے کہ وہ اس جنگ بندی کا مکمل احترام کریں۔اس میں تنازعے کے تمام فریقوں پر زوردیا گیا ہے کہ ''وہ بین الاقوامی انسانی حقوق کا احترام کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے صورت حال مزید عدم استحکام کا شکار ہوسکتی ہو''۔

اس میں عالمی برادری سے کہا گیا ہے کہ وہ اس دیرینہ تنازعے کے دو ریاستی حل کی بنیاد پر اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن معاہدہ کرائیں جس کے تحت 1967ء کی جنگ سے قبل کی سرحدوں کے اندر ساتھ ساتھ دو ریاستیں قائم ہوں۔

اسرائیلی فوج نے جمعہ کو مسلسل چوتھے روز غزہ کی پٹی پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس کی جارحیت میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد ایک سو سے زیادہ ہوگئی ہے جبکہ انتہا پسند صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے فوری جنگ بندی کے امکان کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ہمارے ایجنڈے میں ابھی شامل نہیں ہے۔

نیتن یاہو نے ایک نشری بیان میں کہا کہ جنگ منصوبہ بندی کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے اور مستقبل میں ہم مزید مراحل کی توقع کرسکتے ہیں۔انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ'' ہم نے حماس اور دوسری تنظیموں کو نشانہ بنایا ہے۔جنگ جاری ہے اور ہم ان پر حملوں میں اضافہ کریں گے''۔