حماس کی اسرائیل کے بڑے ہوائی اڈے پر حملے کی دھمکی

فضائی کمپنیوں کو تل ابیب کے بن گورین ائیرپورٹ کے لیے پروازیں روکنے کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز نے غزہ کی پٹی سے اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب کے بن گورین بین الاقوامی ہوائی اڈے پر راکٹ حملوں کی دھمکی دی ہے اور فضائی کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس ہوائی اڈے کے لیے اپنی پروازیں روک دیں۔

اسرائیل کے اس ہوائی اڈے پر گذشتہ منگل کو غزہ کی پٹی پر صہیونی فوج کے جارحانہ فضائی حملوں کے آغاز کے بعد سے بین الاقوامی پروازیں معمول کے مطابق آمد ورفت جاری ہے حالانکہ فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کی جانب سے فائر کیے جانے والے راکٹ تل ابیب اور اس کے آس پاس آ کر گررہے ہیں۔تاہم ان سے کوئی نقصان نہیں ہوا ہے کیونکہ ان راکٹوں کو یا تو اسرائیل کے آئرن ڈوم میزائل دفاعی نظام نے ناکارہ بنا دیا ہے یا پھر وہ ایسے علاقوں اور کھلی جگہوں پر گرے ہیں جن سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

عزالدین القسام بریگیڈز نے جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''حماس نے اسرائیلی جارحیت کا جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے اور ہم بن گورین ائیرپورٹ سے پروازیں چلانے پر انتباہ کررہے ہیں ،یہ ہوائی اڈا ہمارے آج کے اہداف میں سے ایک ہدف ہوگا کیونکہ اس میں ایک فوجی اڈا بھی قائم ہے''۔

اس گروپ کا کہنا ہے کہ اس نے مسافروں کو زخمی ہونے سے بچانے کے لیے فضائی کمپنیوں کے لیے انتباہ جاری کیا ہے۔اس نے اس سے پہلے آج تل ابیب کی جانب ایک راکٹ فائر کرنے کی اطلاع دی ہے۔

اسرائیلی ائیرپورٹ اتھارٹی کے ترجمان نے کہا ہے کہ بن گورین ہوائی اڈے پر سائرن بجائے گئے تھے اور دس منٹ کے لیے تمام سرگرمیاں روک دی گئی تھیں لیکن تل ابیب میں یہ معمول کے الرٹ کا حصہ تھا اور ہوائی اڈے کو براہ راست کوئی خطرہ نہیں تھا۔

واضح رہے کہ غزہ کی پٹی سے فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے اب تک فائر کیے جانے والے راکٹ تل ابیب میں اپنے اہداف پر نہیں گرے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل کا آئرن ڈون میزائل دفاعی نظام شہر کے علاوہ ہوائی اڈے کا بھی احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ ان راکٹوں کو فضا ہی میں ناکارہ بنا دیتا ہے لیکن یہ راکٹ غزہ کی پٹی سے ایک سو کلومیٹر دور تک اسرائیل کے علاقوں میں گررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں