عالمی دباؤ پر بھی غزہ پر حملے نہیں روکیں گے:نیتن یاہو

اسرائیل کی غزہ پرجاری جارحیت میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 100 سے متجاوز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائِیل پہلے ہی اقوام متحدہ کی قراردادوں یا عالمی قوانین کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔اب اس کے انتہا پسند وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے سیدھے سبھاؤ کہہ دیا ہے کہ وہ عالمی دباؤ کے باوحود غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے خلاف جاری جارحانہ فوجی حملے نہیں روکیں گے۔

اسرائیلی فوج گذشتہ منگل سے غزہ کی پٹی کے شہروں اور قصبوں پر بمباری کررہی ہے اور اس کے نتیجے میں جمعہ کی شام تک ایک سو تین فلسطینی شہید اور سیکڑوں زخمی ہو گئے ہیں۔ان میں ایک بڑی تعداد کم سن بچوں اور خواتین کی ہے۔

نیتن یاہو نے تل ابیب میں اسرائیلی وزارت دفاع میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ''فوجی آپریشن کا کوئی اختتام نظر نہیں آرہا ہے۔میں اس کو اس وقت ختم کروں گا جب اس کے مقاصد پورے ہوجائیں گے اور ترجیحی مقصد امن اور سلامتی کی بحالی ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''وہ امریکی صدر براک اوباما اور برطانیہ ،فرانس ،جرمنی اور کینیڈا کے لیڈروں سمیت متعدد عالمی رہ نماؤں سے رابطے میں ہیں۔انھوں نے ان سے گفتگو کی ہے اور انھیں بتایا ہے کہ کوئی بھی اور ملک اپنے شہریوں پر حملوں کو برداشت نہیں کرسکتا ہے''

نیتن یاہو نے کمال ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ببانگ دہل کہا کہ ''کوئی بھی بین الاقوامی دباؤ ہمیں تمام قوت کے ساتھ اقدام کرنے سے نہیں روک سکتا ہے''۔اسرائیل کے پشتی بان امریکا اور دوسرے اتحادیوں نے اس کے دفاع کے حق کو تسلیم کیا ہے لیکن انھوں نے اس کو ضبط وتحمل سے کام لینے کا مشورہ دیا ہے۔

اسرائیل غزہ سے فائر کیے جانے والے راکٹوں کو روکنے کے نام پر آپریشن دفاعی کنارہ کے نام سے یہ جارحانہ کارروائی کررہا ہے لیکن فلسطینیوں کی جانب سے فائر کیے گئے قریباً چھے سو راکٹوں سے اب تک ایک بھی یہودی نہیں مرا ہے اور صرف دو یہودیوں کے زخمی ہونے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے صہیونی فوج کی غزہ میں وحشیانہ بمباری سے فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمشنر مس نیوی پلے نے کہا ہے کہ اسرائیل کے فضائی حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں کیونکہ قانون کے تحت شہریوں کو اہداف بنانے سے منع کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''ہمیں بچوں سمیت بہت سے شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق تشویش ناک رپورٹس موصول ہوئی ہیں اور یہ ہلاکتیں مکانوں پر بمباری کے نتیجے میں ہوئی ہیں۔ان رپورٹس میں اسرائیل کے فضائی حملوں کے بارے میں سنجیدہ شکوک پیدا ہوگئے ہیں کہ آیا یہ عالمی انسانی قانون اور انسانی حقوق سے متعلق قانون کے مطابق بھی ہیں یا نہیں۔

لیکن دجل وفریب کی پرچارک غاصب صہیونی ریاست کے وزیراعظم نیتن یاہو نے اس تنقید کو مسترد کردیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔انھوں نے الٹا حماس کو شہریوں کی ہلاکتوں کا ذمے دار ٹھہرایا ہے اور کہا ہے کہ شہری علاقوں میں چُھپے ہوئے اس کے مزاحمت کاروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کی ہلاکتوں ہوتی ہیں۔

اسرائیل نے اپنے ہزاروں فوجیوں کو غزہ کی پٹی کی سرحد کے ساتھ تعینات کررکھا ہے لیکن ابھی اس نے زمینی چڑھائی نہیں کی اور فضائی بمباری ہی جاری رکھی ہوئی ہے۔نیتن یاہو سے جب نیوزکانفرنس میں زمینی آپریشن کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے مبہم سا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ''ہم ہر امکان کا جائزہ لے رہے ہیں''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں