مصر: اجتماعی سزا کی اسرائیلی پالیسی قابل مذمت ہے

دونوں فریق فوری طور پر تشدد ختم کریں: مصر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر نے غزہ میں نہتے شہریوں کو 'اجتماعی سزا دینے کی ظالمانہ اسرائیلی پالیسی' کی مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ بحران کے خاتمے کے لئے فوری اقدام اٹھائیں۔

غزہ سے راکٹ باری کرنے والے فلسطینی مزاحمت کاروں پر اسرائیل کی فضائی فوجی کارروائی میں کم سے کم ایک سو فلسطینی لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ منگل سے شروع ہونے والی بمباری میں ابتک 500 شہری زخمی ہو چکے ہیں۔

مصری وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "مصر مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی غیر ذمہ دارانہ جارحیت کو مسترد کرتا ہے۔ اس میں بلاجواز اور ضرورت سے زیادہ فوجی طاقت کے استعمال سے معصوم شہری جان گنوا رہے ہیں۔" "یہ اجتماعی سزا دینے کی ظالمانہ پالیسیوں کے تسلسل کا مظہر ہے۔"

وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں بین الاقوامی برادری سے بحران ختم کرنے کے لئے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں فریقوں کو سنہ 2012ء میں طے پانے والے جنگی بندی معاہدے کی پاسداری کرنی چاہئے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تنازع میں مسلسل بڑھوتری سے "مستقبل میں مذاکرات کے ذریعے معاملے کے حل کی خاطر سازگار ماحول پیدا نہیں ہو سکے گا"

اسرائیل سے سفارتی تعلقات رکھنے والے عرب ملک مصر نے سنہ 2012ء میں اسرائیل اور غزہ پر حکمران جماعت حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ کرایا تھا، لیکن مصر میں سابق فوجی سربراہ کی عبدالفتاح السیسی کی موجودہ حکومت نے غزہ تنازع سے متعلق صرف یہ کہتے ہوئے نظر التفات کیا ہے کہ "دونوں فریق [اسرائیل اور فلسطینی مزاحمت کار] فوری طور پر تشدد ختم کریں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں