.

اسلامی جہاد کے رہنما کے گھر پر بمباری، بچی سمیت 5 شہید

کم سن بچوں سمیت شہداء کی مجموعی تعداد 100 سے زائد ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے جمعہ کے روز بھی غزہ کے فلسطینیوں پر بمباری جاری رکھتے ہوئے مجموعی طور پر اب تک 100 سے زائد افراد کو شہید کر دیا ہے۔ ان شہید ہونے والوں میں خواتین اور کم سن بچوں سمیت بڑی تعداد عام شہریوں کی ہے۔

اسرائیل کے خلاف فلسطینی مزاحمت کاروں کے راکٹ حملے بھی جاری ہیں تاہم اسرائیل کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ ان راکٹ حملوں کا نشانہ تل ابیب، یروشلم اور دوسرے اسرائیلی شہر بتائے جاتے ہیں۔

اسرائیلی رہنماٶں نے 20 ہزار کی تعداد میں زمینی فوجیوں کو غزہ بھجوانے کے اشارے دیے ہیں۔ یہ تیاری اس لیے کی گئی ہے کہ غزہ پر دباٶ بڑھایا جا سکے۔

جمعہ کے روز طلوع آفتاب سے قبل کیے جانے والے اسرائیل کے فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم چھ مزید فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔ جمعہ کے روز ہونے والی بمباری کا ہدف بھی مکانات ہیں۔

تازہ نشانہ بننے والے مکانات میں جہاد اسلامی کے عسکری ونگ سرایا القدس کے کمانڈر عبدالرزاق الغنام کا رفح میں واقع گھر بھی شامل ہے۔ اس تازہ بمباری سے 15 فلسطینیوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ تاہم عبدالرزاق الغنام اپنے گھر پر موجود نہ ہونے کی وجہ سے محفوظ رہے ہیں، تاہم حملے میں ان کی اہلیہ اور بچے شہید ہو گئے.

ایک گھنٹہ پہلے کی جانے والی بمباری میں حماس کے 33 سالہ انس ابو الکاس غزہ میں شہید ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی فوجی ترجمان کے مطابق جمعہ کے روز فضا سے حملوں کے علاوہ سمندر سے بھی غزہ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

واضح رہے اسرائیلی وزیر اعظم نے ایک روز قبل اپنے ٹی وی خطاب میں کہا تھا کارروائی منصوبے کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے۔ تاہم مستقبل میں کیا مراحل سامنے آتے ہیں اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع موشے یعلون نے کہا ہے کہ ''ابھی ہمیں کئی روز جنگ لڑنی ہے۔'' اس کے جواب میں حماس کے ترجمان سامی ابو زھری نے کہا ہے ''ہماری پشت دیوار کی طرف ہے اور ہمارے پاس کھونے کو کچھ نہیں ہے، اس لیے ہم آخری دم تک لڑائی کے لیے تیار ہیں۔''

اسرائیلی فوج کے مطابق غزہ کی طرف سے 470 پروجیکٹائل راکٹ اسرائیل پر فائر کیے جا چکے ہیں۔ تاہم امریکی امداد سے تیار کیے گئے دفاعی میزائل سسٹم کے باعث اسرائیل کا کوئی جانی نقصان نہیں ہو سکا ہے۔

غزہ میں طبی شعبے سے ترجمان ڈاکٹر اشرف القدرہ کا کہنا ہے کہ ساٹھ سے زائد عام شہری جن میں چار سالہ بچی اور پانچ سالہ بچہ بھی شامل ہیں اسرائیلی بمباری سے شہید ہو چکے ہیں۔

فرانس کے صدر نے غزہ میں عام شہریوں کے نقصان پر اظہار افسوس کیا ہے۔ انہوں نے صدر محمود عباس سے بات کرتے ہوئے کہا ''کوئی شخص بھی زمینی حملے کے حق میں نہیں ہے۔ ''

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے صورت حال کو مزید بگڑنے سے بچانے کے لیے مصر سے رابطہ کیا ہے۔ جبکہ صدر اوباما نے جنگ بندی کرانے کی پیش کش کی ہے۔