"داعش" کے ٹھکانوں پر ایرانی طیاروں کی بمباری

"عراق میں بیرونی مداخلت مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دے گی"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایرانی فضائیہ نے عراق اور شام کی حدود میں دولت اسلامی عراق و شام "داعش" کے متعدد ٹھکانوں پر مزید حملے کیے ہیں۔

میڈیا ذرائع کے مطابق گذشتہ چند دنوں کے دوران عراق اور شام میں "داعش" کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں میں عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کے جنگی طیاروں نے بھی حصہ لیا تاہم ان طیاروں کے پائلٹ مقامی نہیں بلکہ ایرانی تھے جو نوری المالکی کے دفاع میں لڑائی کے لیے عراق بھیجے گئے ہیں۔

درایں اثناء برسلز میں ایک مغربی سفارتی ذریعے نے خبردار کیا ہے کہ عراق میں پڑوسی ملکوں کی فوجی مداخلت نہ صرف مسئلے کو مزید پیچیدہ بنانے کا موجب بنے گی بلکہ بیرونی مداخلت "داعش" کو اپنے پنجے مزید پھیلانے کا موقع فراہم کرے گی۔

مغربی ممالک کی جانب سے انتباہ کے علی الرغم ایران، نوری المالکی کی حمایت میں باغیوں کے خلاف فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ "داعش" کے مبینہ ٹھکانوں پر حملوں کے لیے جنگی طیارے دونوں ملکوں کی سرحدوں کے قریب واقع ایرانی شہروں یا شام کے فوجی اڈوں سے اڑانیں بھرتے ہیں۔

لندن سے شائع ہونے والے اخبار "الحیاۃ نے رپورٹ کیا ہے کہ روس سے حاصل کردہ "سخوئی" جنگی طیاروں کو ابھی تک باغیوں کے خلاف استعمال نہیں کیا گیا۔ اس کی بنیادی وجہ جنگ میں ایرانی طیاروں کا استعمال ہے۔ ایران کے جنگی ہیلی کاپٹر اور جنگی جہاز عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر حملوں میں "سخوی" طیاروں سے زیادہ بہتر نتائج فراہم کرتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی فضائیہ کی عراق اور شامی حدود میں "داعش" کے ٹھکانوں پر بمباری سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ ایران مسئلے کے پرامن حل کے بجائے تشدد کے راستے پر چل رہا ہے۔ عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کے خلاف عوامی بغاوت کے بعد ملک میں ایران کی حمایت غیر معمولی حد تک متاثر ہوئی ہے جس سے ایرانی اثر و نفوذ میں بھی کمی آ گئی ہے۔

عراق اور شام میں ایرانی طیاروں کی بمباری کی خبروں کے جلو میں ایرانی وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم کا بھی ایک بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے ایرانی فضائیہ کی شام اور عراق میں بمباری کے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔

روس کے ایک فوجی ذریعے کا کہنا ہے کہ عراق کو فروخت کیے گئے پانچ "سخوئی 25" جنگی طیاروں کی عجلت میں فراہمی دراصل دونوں ملکوں کے درمیان کئی سال قبل طے پائے معاہدے کا حصہ ہے تاہم بغداد سرکار نے آج تک اس ڈیل کو بوجوہ صیغہ راز میں رکھا ہے۔ انہی ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت ماسکو بغداد کو "سخوئی 25" طرز کے 12 طیارے فروخت کرے گا۔ ان میں سے پانچ طیارے حال ہی میں عراق کو فراہم کیے گئے ہیں جبکہ مزید سات طیارے جلد ہی فراہم کر دیے جائیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عراق کو "سخوئی 25" کی پہلی کھیپ وقتِ مقررہ سے قبل فراہم کی گئی ہے۔ عراق میں حالیہ شورش کے بعد وزیر اعظم نوری المالکی اور روسی صدر ولادی میر پوتن کے درمیان گذشتہ ہفتے ٹیلیفون پر ہونے والی بات چیت کے بعد بغداد کو فوری طور پر پانچ "سخوئی 25" طیارے فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ماسکو عسکری حلقوں کا مزید کہنا ہے کہ روس، عراق کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔ سخوئی طیاروں کی فراہمی اس کا حصہ ہے۔ جلد ہی مزید سات "سخوئی 25" بغداد پہنچ جائیں گے۔

روسی ذرائع نے یہ نہیں بتایا کہ کیا یہ "سخوئی" طیارے جلد ہی عراقی سیکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیے جائیں گے یا انہیں فوری استعمال نہیں کیا جائے گا۔ چونکہ عراق ۔ ایران جنگ کے دوران یہ طیارے بغداد پہلے بھی استعمال کر چکا ہے، اس لیے عراق کے پاس ان طیاروں کے استعمال کے ماہرین موجود ہیں۔ با الفاط دیگر عراقی حکومت کم سے کم وقت میں روسی ساختہ جنگی جہازوں کو استعمال میں لانے کے قابل ہو جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں