شام : دوماہ کا بچہ عمارت کے ملبے سے بحفاظت برآمد

بچہ 16 گھنٹے زیر ملبہ رہا، ریسکیو کارکنوں نے ویڈیو بھی بنالی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام سے تعلق رکھنے والے ریسکیو ورکرز نے دو ماہ کے شیر خوار بچے کو حلب میں بمباری سے تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے بحفاظت زندہ نکال لیا ہے۔

ملبے تلے دبے معصوم بچے نے رو رو کر ریسکیو ٹیم کو اپنی جانب متوجہ کیا تھا۔ کامیاب آپریشن کے بعد ریسکیو ورکرز نے اس واقعے کو ایک معجزہ قرار دیتے ہوئے پر جوش انداز میں اللہ اکبر کا نعرہ بلند کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق شامی باغیوں کے زیر قبضہ شہر حلب پر اسد رجیم کی افواج آئے روز بمباری کرتی رہتی ہیں۔ اس وجہ سے اب تک حلب کے سینکڑوں شہری لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ جبکہ شہری عمارات کا بڑا حصہ ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔

ایسے ہی ملبے کا ڈھیر بنی ایک تباہ شدہ عمارت سے حلب میں سول دفاع کی ٹیم نے 16 گھنٹے تک مٹی اور ملبے میں دبے رہنے والے دو ماہ کے معصوم بچے کو اس وقت زندہ نکال لیا جب وہ ملبے میں موجود دراڑ سے چیخ چلا کر اپنی جانب متوجہ کر رہا تھا۔

ریسکیو کارکن نے مٹی میں لتھڑے اس پھول سے بچے کو اپنے بازووں پر لٹایا اور اللہ کی کبریائی بیان کرتے ہوئے اللہ اکبر کے نعرے لگانے لگا۔

ریسکیو ورکرز نے اس بچے کی ایک ویڈیو بھی آن ائیر کی ہے۔ تاہم غیر جانبداری سے یہ تصدیق کرنا مشکل ہے کہ یہ ویڈیو کس قدر حقیقت پر مبنی ہے۔

حلب کا باغیوں کے زیر قبضہ علاقہ اسد رجیم کی بمباری اور اسد رجیم کے کنٹرول میں علاقہ باغیوں کے مارٹر گولوں کی زد میں رہتا ہے۔ اسی وجہ سے تین سالہ خانہ جنگی نے ماضی کے کاروباری مرکز کو کھنڈر میں تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں