شمالی عراق میں تیل کے مزید ذخائر پر کردوں کا قبضہ

وفاق نے کردستان کو سنگین نتائج کی دھمکی دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراقی وفاق سے مکمل خود مختاری کے حصول کے لئے کوشاں کردستان کی قیادت نے ملک کے شمال میں قدرتی تیل کے مزید ذخائر پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔

کرد حکام کے دعوے سے قبل پٹرولیم کی عراقی وزارت اور شمالی پٹرولیم کمپنی نے بتایا کہ کردستان سیکیورٹی فورس 'البیشمرکہ' نے کرکوک میں تیل کی تنصیبات پر قبضہ کے بعد وہاں کام کرنے والے عرب ملازمین کو نکال کر ان کی جگہ کرد بھرتی کر لیے ہیں۔

وزارت پٹرولیم کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ 'البیشمرکہ' کے اہلکار سویلین کے ہمراہ کرکوک اور بائی حسن آئل ریفائنری میں داخل ہوئے، جہاں سے انہوں نے تمام عرب ملازمین کو نکال دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کرد حکام کا کہنا تھا کہ انہوں نے کرکوک میں بائی حسن آئل ریفائنری کا کنٹرول بھی سنھبال لیا ہے۔

تیل کی تنصیبات کے تحفظ میں ناکامی کے بعد بغداد حکومت نے روایتی مذمتی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تیل کی تنصیبات پر کرد قبضے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ بیان میں کردوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ تیل کے ذخائر کا قبضہ چھوڑ دیں ورنہ انہیں سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

خیال رہے کہ کرکوک میں تیل کے ذخائر پر کردوں کے قبضے کی راہ ایک ماہ پیشتر اس وقت ہموار ہوئی جب 'داعش' کی کارروائیوں کے بعد عراقی سیکیورٹی فورسز کرکوک شہر سے فرار ہوئیں۔ کردوں کی حالیہ پیش رفت اس وقت زیادہ اہمیت کی حامل ہے کیونکہ کرد قیادت نے صوبے کو خود مختار ریاست میں بنانے کے لیے داخلی اور خارجی محاذ پر اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں