.

عراقی فورسز نے 255 سُنی قیدیوں کو قتل کردیا:رپورٹ

سُنی قیدیوں کو داعش کی عراقی فوج کے خلاف فتوحات کے بعد قتل کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں وزیراعظم نوری المالکی کے تحت سکیورٹی فورسز اور ان کی اتحادی ملیشیاؤں نے گذشتہ ایک ماہ کے دوران دوسو پچپن سنی قیدیوں کو غیرقانونی طور پر قتل کردیا ہے۔

خانہ جنگی کا شکار ملک میں اہل سُنت کی ان ہلاکتوں کا انکشاف انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں کیا ہے اور بتایا ہے کہ ان قیدیوں کو 9 جون کے بعد غیر قانونی طور پر گولیوں کا نشانہ بنا دیا گیا ہے۔

نیویارک میں قائم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ ''اتنے بڑے پیمانے پر ماورائے عدالت ہلاکتیں جنگی جرائم یا انسانیت کے خلاف جرائم کا ثبوت ہوسکتی ہیں''۔تنظیم کے مطابق ان سُنی قیدیوں کو بظاہر عراق کے شمالی صوبوں میں جنگجو تنظیم دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کی سرکاری فوج کے خلاف جنگی کارروائیوں اور فتوحات کے ردعمل میں قتل کیا گیا ہے۔

ایچ آر ڈبلیو کے مشرق وسطیٰ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جو اسٹارک نے کہا ہے کہ ''قیدیوں کو اس طرح فائرنگ سے ہلاک کیا جانا بین الاقوامی قانون کی شرمناک خلاف ورزی ہے''۔

اںھوں نے کہا کہ دنیا اگر داعش کے بھیانک مظالم کی بجا طور پر مذمت کررہی ہے تو اس کو عراق کی سرکاری یا حکومت نواز فورسز کے ہاتھوں فرقہ وارانہ ہلاکتوں سے آنکھیں موند نہیں لینی چاہئیں۔

اس تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نے گذشتہ ماہ موصل میں قیدیوں کے قتل عام کے علاوہ تل عفر ،بعقوبہ ،جمرخا اور راوا کے قصبوں اور دیہات میں لوگوں کی ہلاکتوں کے دستاویزی ثبوت اکٹھے کیے ہیں۔

اس نے بتایا ہے کہ ایک کیس میں قاتلوں نے بیسیوں قیدیوں کو آگ لگا دی تھی اور دو کیسوں میں قیدیوں کی کوٹھڑیوں میں دستی بم پھینکے تھے۔ایچ آر ڈبلیو نے عراق میں فرقہ وارانہ بنیاد پر ہونے والی ان ہلاکتوں کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں