غزہ اور مصر کے درمیان سرحد پر اسرائیلی فوج کی بمباری

ممکنہ فوجی آپریشن کے لیے تل ابیب نے سرحد پر نفری بڑھا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

محاصرہ زدہ فلسطینی علاقے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں میں تیزی کے ساتھ ممکنہ زمینی کارروائی کے لیے سرحد پر بڑی تعداد میں فوجی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ اسرائیلی جنگی جہازوں نے غزہ اور مصر کے درمیان سرحدی علاقے پر گذشتہ روز بمباری کی جس کے نتیجے میں متعدد فلسطینیی شہید اور زخمی ہوئے۔

اسرائیلی فضائی حملوں کے جواب میں اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ نے اشدود شہر میں مزید چار راکٹ فائر کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ قبل ازیں القسام بریگیڈ نے اسرائیل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے بن گورین سے متصل فوجی اڈے پر راکٹ فائر کیے۔

درایں اثناء حماس کے سیاسی شعبے کے سینیئر رُکن عزت الرشق نے کہا ہے کہ بعض ممالک کی جانب سے غزہ کے مزاحمت کاروں اور اسرائیل کے درمیان سیز فائر کے لیے کوششیں جاری ہیں تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فائر بندی کی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو مزاحمت کار دشمن کی تنصیبات پر راکٹ حملے جاری رکھیں گے. عزت الرشق نے بتایا کہ مزاحمت کاروں کے پاس راکٹوں کی بھاری مقدار موجود ہے جسے اسرائیلی دشمن کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔

ادھر اسرائیل کے انتہا پسند وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے غزہ کی پٹی کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "دہشت گردوں" کے تعاقب میں جاری آپریشن میں کوئی عالمی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا اور فوجی کارروائی اہداف کے حصول تک جاری رہے گی۔

خیال رہے کہ گذشتہ منگل سے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں میں اب تک کم سے کم 110 فلسطینی شہید اور 800 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں اپنی فوج داخل کرنے کی دھمکیاں بھی دی ہیں اور ممکنہ زمینی کارروائی کے لیے فوج کی بھاری نفری سرحد پر پہنچائی جا رہی ہے۔ اسرائیلی فوج نے سرحد کے قریب رہائش پذیر فلسطینیوں سے علاقہ خالی کرنے کا کہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں