.

غزہ سرحد پر اسرائیلی فوج، مزاحمت کاروں میں شدید جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنگ زدہ فلسطینی شہر غزہ کی سرحد پر اسرائیلی فوج اور اسلامی جہاد کے عسکری ونگ سرایا القدس کے درمیان تازہ جھڑپیں ہوئیں ہیں، جس میں متعدد مزاحمت کار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

العربیہ نیوز چینل نے سرایا القدس بریگیڈ ایک بیان کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ مزاحمت کاروں اور اسرائیلی فوج کے درمیان غزہ کی سرحد کے قریب جھڑپیں ہوئیں۔ بیان کے مطابق جھڑپیں اسرائیلی فوج کے اسپیشل کمانڈو یونٹ کے اہلکاروں کے ساتھ ہوئیں۔ "مجاہدین کی کارروائی میں دشمن کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچایا گیا ہے۔ جھڑپ میں ہونے والے دشمن کے نقصان کی تفصیلات کچھ دیر بعد جاری کی جائیں گی۔"

درایں اثناء غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی جارحیت کے نتیجے میں اب تک کم سے کم 108 فلسطینی شہید اور 800 زخمی ہو چکے ہیں۔ وزارت صحت غزہ کے مطابق اسپتالوں میں مزید ایک درجن زخمی لائے گئے جس کے بعد پانچ روز سے اسرائیل کے جاری فضائی حملوں میں تقریباً آٹھ سو شہری زخمی ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی فضائی حملوں کے دوران وزیر اعطم بنجمن نیتن یاھو کا ایک بیان بھی سامنے آیا ہے، جس میں ان کا کہنا تھا کہ غزہ پر فضائی حملے روکنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ نیتن یاھو کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری نے اسرائیل سے فلسطینیوں پر بمباری روکنے اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

ذرائع کے مطابق فضائی حملوں میں تیزی کےساتھ ساتھ اسرئیلی فوج کی بڑی تعداد غزہ کی پٹی کی سرحد کے ساتھ جمع ہو گئی ہے جو ممکنہ طور پر غزہ کی پٹی میں زمین آپریشن کی تیاری کر رہی ہے۔

ادھر فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ حملوں میں مزید شدت آ گئی ہے۔ رات گئے حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے اسرائیلی بین الاقوامی ہوائی اڈے بن گورین اور اشدود میں ایک پٹرول پمپ کو راکٹ حملوں سے نشانہ بنایا ہے۔