'داعش' کے بعد ۔۔۔ 'النصرہ محاذ' کی امارت اسلامی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حلب میڈیا سینٹر کے اعلان میں بتایا گیا ہے کہ النصرہ فرنٹ کے حلب یونٹ کی اعلی قیادت اور جنگجووں کے اجلاس میں محاذ کے عمومی امیر ابو محمد الجولانی نے شرکت کی۔ اپنا تعارف کراتے ہوئے انہوں نے اسلامی امارت کا اعلان کیا۔

النصرہ محاذ کے اندرونی ذرائع نے بتایا کہ الجولانی نے جس اجلاس میں شرکت کی، اس کے ایجنڈے میں فرنٹ کی تنظیمی ڈھانچے پر نظر ثانی اور تنظیم نو تھی، تمام شرکاء اجلاس کے لیے ان کی شرکت باعث حیرت تھی۔

فرنٹ کے سربراہ کے قریبی ذریعے نے بتایا کہ الجولانی نے تنظیم کے جنگجووں کو 'بشارت' دی کی اسلامی جماعتوں اور الجیش الحر کے مختلف یونٹس سے کوارڈی نیشن کے کے بعد وہ اسلامی امارت کا اعلان کرنے میں خوشی محسوس کر رہے ہیں۔

انہوں نے یہ بات زور دیکر کہی کہ اسلامی امارت صرف النصرہ محاذ پر مشتمل نہیں ہو گی بلکہ اس میں تمام دلچسپی رکھنے والی جماعتوں کو شمولیت کا موقع دیا جائے گا۔ اس امارت کا مقصد 'اللہ کی شریعت کا نفاذ اور فسادیوں کا خاتمہ ہے۔"

الجولانی نے بتایا کہ النصرہ محاذ اسلامی امارت کو کامیاب سے چلانے کے بے شمار امکانات سے مالا مال ہے۔ انہوں نے اپنے جنگجووں سے مطالبہ کہ وہ اس اسلامی امارت کے قیام میں ان کی بھرپور مدد کریں۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں پر زور دیا کہ وہ 'دشمنوں کے سامنے ثابت قدم رہیں اور آج کے بعد ان پر رحم کھانا چھوڑ دیں۔"

اجلاس کے اختتام پر الجولانی نے انکشاف کیا حلب میں پہلی اسلامی امارت قائم ہو گی، جس کے بعد اس تجربے کو دوسرے علاقوں تک منتقل کیا جائے گا۔ بعد میں یہی امارت شامی حکومت کی جانب سے عاید پابندیاں ختم کریں گی اور پھر ایک دوسرے سے جڑتی جائیں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں