.

القسام کا تل ابیب پر "J80" طرز کے میزائلوں سے حملہ

میزائل داغنے کا منظر میڈیا پر دکھانے کی پیشگی اطلاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ نے ہفتے کی شب تل ابیب اور بیت یام پر "J80" طرز کے چھے میزائل داغے۔ اس میزائل کا کوڈ نام القسام کے شہید کمانڈر احمد الجعبری کی یاد میں رکھا گیا ہے۔

القسام نے دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کو ان میزائلوں کے داغے جانے کے مرحلے کو فضاء میں مانیٹر کرنے کی پیشگی اطلاع دے رکھی تھی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ تنظیم نے اپنی کسی عسکری کارروائی کو عملی جامہ پہنانے کے وقت سے ذرائع ابلاغ کو آگاہ کیا۔

غزہ سے فائر کئے جانے والے القسام میزائلیوں کو امریکا سے ملنے والے میزائل شکن سسٹم 'آئرن ڈوم' نے اگرچہ فضا میں اپنے ہدف تک پہنچنے سے پہلے تباہ کر دیا، تاہم میزائل فائر ہوتے ہی تل ابیب اور گرد و نواح میں خطرے کے سائرن بج اٹھے اور اسرائیلی شہریوں کی زیر زمین محفوظ ٹھکانوں کی تلاش میں دوڑیں لگ گئیں۔

ادھر القدس سے 'العربیہ' کے نامہ نگار نے بتایا کہ جہاد اسلامی کے عسکری ونگ سرایا القدس نے بھِی تل ابیب پر براق 70 طرز کے دو میزائل داغنے کا دعوی کیا ہے۔ تنظیم نے اسرائیلی یہودی بستی نتیفوت پر چار گراڈ، زکیم اور یتید پر 107 طرز کے سات میزائل داغے ہیں۔

اسرائیل کے چینل ¬10 نے تل ابیب کی بندرگارہ سے میزائل فائرنگ کے مناظر براہ راست نشر کئے جن میں اہالیاں علاقہ کو محفوظ ٹھکانوں کی تلاش میں دیوانہ وار بھاگتے دیکھا جا سکتا ہے، تاہم کچھ دیر بعد وہ شرمندہ شرمندہ واپس اپنے کام پر لوٹتے دیکھے گئے۔ ایسے ہی مناظر غرب اردن کے علاقے رام اللہ کے شمال میں واقع بیب ایل یہودی بستی میں بھی خطرے کے سائرن بجتے دیکھے گئے۔

اس سے قبل غزہ سے اسی کلومیٹر دور القدس میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بارے میں اسرائیلی فوج نے بتایا کہ یہ غزہ سے داغے جانے والے تین میزائلوں کی تھی، جو مغربی کنارے کے اس علاقے میں گرے جہاں یہودی بستیاں موجود ہیں، اس حملے میں سعیر الفلسطینہ گاوں کے ایک گھر کو نقصان پہنچا۔

ادھر اسرائیل نے میزائل شکن بیڑیوں کی آٹھویں کھیپ بھی ہفتے کے روز جنگ میں جھونک دی تاکہ غزہ سے راکٹ حملوں میں پہلے سے زیادہ شدت آنے کی صورت میں ان کا توڑ تلاش کیا جا سکے۔ اسرائیلی فوج نے غزہ پر ہفتے کے پانچویں روز بھی گولہ باری کا سلسلہ جاری رکھا۔
بین الاقوامی برادری کی جانب سے فریقین کو جنگ بند کرنے کی اپیلوں کے علی الرغم اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر زمینی حملے اور در اندازی کا آپشن کھلا رکھا ہوا ہے۔

پانچ دنوں سے جاری اسرائیل کے غزہ پر اندھا دھند حملوں کے بعد ابتک 135 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، ان میں اٹھ ہفتے کے روز مختلف علاقوں پر فضائی حملوں میں کام آئے۔ اس وقت تک 950 افراد زخمی ہونے کی اطلاع ہیں۔

منگل کے روز شروع ہونے والی اس لڑائی میں غزہ سے اسرائیل پر 564 میزائل داغے جا چکے ہیں، جن میں 140 کو میزائل شکن دفاعی نظام نے ہوا میں تباہ کیا جبکہ ان حملوں میں ابتک دسیوں لوگ زخمی ہیں۔