.

'حفاظتی کنارہ' آپریشن: اسرائیل کا غزہ پر پہلا زمینی حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی نے'حفاظتی کنارہ' آپریشن کے آغاز کے بعد ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب شمالی غزہ کی پٹی میں اسپیشل میرینز فورس کے ذریعے پہلی مرتبہ زمینی کارروائی کی ہے۔

صہیونی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل پیٹر لیرنر نے صحافیوں کو بتایا کہ میرینز اسپیشل فورس نے زمینی حملہ غزہ کے ساحلی علاقے میں کیا تاکہ دور مار راکٹ باری کرنے والے علاقے میں نصب لانچرز کو تباہ کیا جا سکے۔" انہوں نے دعوی کیا کہ اس 'مشن' میں انہیں خاطر خواہ کامیابی ہوئی ہے۔

فوجی ترجمان نے اعتراف کیا کہ اسپشل فورس کے اہلکاروں پر جوابی حملہ بھی کیا گیا جس میں چار اسرائیلی فوجی معمولی زخمی ہوئے۔

فلسطینی مزاحمتی تنظیموں اسلامی جہاد اور حماس نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ ہفتے کی صبح ان کے جنگجوٶں اور اسپیشل میرینز فورس کے درمیان شمال مغربی غزہ کے ساحل کے قریب السودانیہ علاقے میں جھڑپیں ہوئیں۔

گذشتہ چند دنوں سے اسرائیلی قیادت نے حماس کی راکٹ باری کی صلاحیت ختم کرنے کے لئے مختلف اہداف پر بمباری کے ساتھ غزہ کے خلاف وسیع پیمانے پر آپریشن کی دھمکیاں دینا شروع کر رکھی تھیں۔

اتوار کے روز اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ان کے لڑاکا طیاروں نے ہفتہ اور اتوار کی شب غزہ کی پٹی پر تقریبا 20 فضائی حملے کئے جس کے بعد گذشتہ منگل سے جاری اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والوں کی تعداد 200 ہو گئی جبکہ 1329 افراد زخمی ہیں۔

ترجمان کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 53 میزائل اسرائیلی علاقے پر داغے جا چکے ہیں، اس طرح ابتک فلسطینی مزاحمتی تنظیمیں اسرائیل پر 800 راکٹ داغ چکی ہیں، جن میں 127 کو امریکی میزائل شکن دفاعی سسٹم 'آئرن ڈوم' نے فضا ہی میں تباہ کر دیا۔