.

اسرائیل کا غزہ سے آنے والا ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

غزہ کی جانب سے فوری طور پر ڈرون اڑانے کی تصدیق نہیں کی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی سے چلایا گیا بغیر پائیلٹ جاسوس طیارہ اپنی جنوبی ساحلی پٹی کے نزدیک مارگرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

غزہ پر گذشتہ منگل کو اسرائیلی فوج کی جارحیت کے آغاز کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے کہ فلسطینیوں نے ڈرون کو چھوڑا ہے۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ڈرون غزہ کی جانب سے آیا تھا اور اس کو جنوبی شہر اشدود کے نزدیک مار گرایا گیا ہے۔اس نے یہ نہیں بتایا کہ ڈرون کسی میزائل وغیرہ سے لیس تھا یا نہیں جبکہ غزہ کی جانب سے بھی فوری طور پر بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کو اڑانے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

اس ڈرون کو مارگرانے کی اطلاع سوموار کو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی فوج نے دھمکی کے باوجود غزہ کی پٹی پر بڑا زمینی اور فضائی حملہ نہیں کیا ہے حالانکہ اس نے جنگ بندی کے لیے مغربی مطالبات کو مسترد کردیا تھا۔اسرائیلی فوج نے غزہ کے مکینوں کے خلاف آپریشن دفاعی کنارہ کے دوران اب تک ایک ہزار تین سو سے زیادہ فضائی حملے کیے ہیں جبکہ فلسطینی مزاحمت کاروں نے آٹھ سو سے زیادہ راکٹ فائر کیے ہیں۔

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق غزہ پر اسرائیلی فضائیہ کی تباہ کن بمباری کے نتیجے میں ایک سو ستر سے زیادہ فلسطینی شہید اور ایک ہزار سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں جبکہ فلسطینیوں کے راکٹوں سے کسی یہودی کےمرنے کی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے اور صرف دو یہودی زخمی ہوئے تھے۔

اتوار کو غزہ کی پٹی کے شمالی قصبے بیت لاہیا سے ہزاروں فلسطینی اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں کی دھمکی کے بعد اقوام متحدہ کے پناہ گزین خیموں کی جانب چلے گئےتھے۔اسرائیلی فوج نے اس علاقے میں تباہ کن بمباری کرنے کی دھمکی دی تھی لیکن اس کے بعد سے اس نے قصبے کے باہر واقع خالی کھیت میں ایک فضائی حملہ کیا ہے لیکن اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔