.

اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے فلسطینی شہید

عرب لیگ اور یورپی یونین کا غزہ پراسرائیلی حملے فوری روکنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوجیوں نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں صہیونی مظالم کے خلاف احتجاج کرنے والے فلسطینیوں پر گولی چلا دی ہے جس کے نتیجے میں ایک نوجوان شہید ہوگیا ہے۔

الخلیل میں فلسطینی نوجوان غزہ کی پٹی میں اپنے بھائیوں پر صہیونی فوج کی جارحیت کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔اس دوران انھوں نے مظاہرین پر بندوقیں تاننے والے اسرائیلی فوجیوں کی جانب پتھراؤ کیا جس کے جواب میں انھوں نے ان پر گولی چلا دی جس سے ایک فلسطینی نوجوان بدرین شہید ہوگیا۔

الخلیل اور مغربی کنارے کے دوسرے شہروں میں گذشتہ ماہ تین یہودی لڑکوں کے اغوا کے بعد قتل اور اب غزہ پر صہیونی فوج کی ایک ہفتے سے جاری جارحیت کے ردعمل میں کشیدگی پائی جارہی ہے اور نہتے فلسطینی اسرائیلی مظالم کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

قبل ازیں اسرائیلی فوج کی ایک خاتون ترجمان نے بتایا ہے کہ مغربی کنارے میں کریک ڈاؤن کے دوران یہودی لڑکوں کے قتل کے الزام میں مزید تئیس افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے تیرہ افراد کو الخلیل سے گرفتار کیا ہے۔ان میں سے تین حماس کے ارکان پارلیمان ہیں۔حماس کے گرفتار رکن نایف رجوب درہ ،محمد جہیشہ اذنہ اور محمد عاقل ظہیریہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

فلسطینی قیدی کلب نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ اسرائیل نے اتوار کی رات کے بعد سے حماس کے مزید گیارہ ارکان پارلیمان کو گرفتار کیا ہے جس کے بعد پارلیمان کے گرفتار ارکان کی تعداد چونتیس ہوگئی ہے۔جون کے وسط سے جاری کریک ڈاؤن میں اسرائیلی فورسز نے تئیس ارکان کو پہلے گرفتار کیا تھا۔

واضح رہے کہ الخلیل کے نواح سے جون میں تین یہودی لڑکوں کے اغوا کے بعد قتل کے ردعمل میں اسرائیلی فورسز نے غرب اردن میں کریک ڈاؤن کے دوران سیکڑوں فلسطینیوں کو گرفتار کرکے پس دیوار زنداں کردیا ہے۔ اسرائیل نے حماس پر ان تینوں کی ہلاکت کا الزام عاید کیا تھا اور اس کو سزا دینے کے لیے گذشتہ منگل کو غزہ کی پٹی پر فضائی حملوں کو آغاز کیا تھا۔اس کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں اب تک خواتین اور بچوں سمیت ایک سو بہتر افراد شہید ،ایک ہزار دوسو پچاس سے زیادہ زخمی اور سیکڑوں عمارتیں تباہ ہوچکی ہیں۔

جنگ بندی کے مطالبات

اب تک اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کی جانب سے جنگ بندی کی اپیلیں صدابصحرا ثابت ہوئی ہیں اور اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف جارحیت جاری رکھی ہوئی ہے۔عرب لیگ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ پر اسرائیل کے فضائی حملے رکوائے اور فلسطینیوں کو تحفظ مہیا کرے۔

عرب لیگ نے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کے غزہ پر فضائی حملوں پر اب مزید خاموش نہیں رہا جاسکتا۔تنظیم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے تحفظ کے لیے اپنے قانونی اور انسانی امداد کے اداروں کے ذریعے مداخلت کرے۔

درایں اثناء یورپی یونین نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ غزہ میں فوری جنگ بندی کے لیے خطے میں متعلقہ فریقوں سے رابطے میں ہے۔یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی ترجمان ماجا کوچی جینچیک نے برسلز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم تمام فریقوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ ضبط وتحمل کا مظاہرہ کریں اور انسانی ہلاکتوں سے بچیں۔ہم فوری جنگ بندی کے لیے خطے میں فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہیں''۔