غزہ جنگ بندی: مصری تجویز اسرائیل نے منظور کر لی

حماس کا سیاسی معاہدے اور غزہ کا محاصرہ ختم کرنے پر اصرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر کی طرف سے غزہ میں جنگ بندی کے سلسلے میں پیش کردہ تجویز کو اسرائیل نے من و عن تسلیم کر لیا ہے۔ اس امر کا اعلان اسرائیلی کابینہ کے ایک غیر معمولی اجلاس میں منگل کی صبح کیا گیا۔

تاہم حماس نے اپنے بنیادی مطالبات جن میں غزہ کا محاصرہ ختم کیا جائے اور جنگ بندی سے پہلے سیاسی معاہدہ کیا جائے پر اصرار جاری رکھا ہے اور کہا ہے کہ بنیادی تبدیلی کے بغیر جنگ بندی بے معنی ہو گی۔

خیال رہے مصر نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی ''حفاظتی کنارہ'' کا چھٹا روز مکمل ہونے پر اس جنگی کارروائی کو رکوانے کی کوششیں شروع کی تھی۔ اس سلسلے میں مصر نے فریقین سے اپیل کی تھی کہ منگل کی صبح سے ایک عارضی جنگ بندی پر آمادہ ہو جائیں۔

مصری اپیل پر اسرائیلی کابینہ نے مثبت اشارہ دیتے ہوئے ایک روز قبل ہی کہہ دیا تھا کہ مصری تجویز پر غور کے لیے منگل کی صبح کابینہ کا اجلاس ہو گا۔ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی زیر صدارت اسرائیلی کابینہ نے غور کے بعد اس تجویز کو صائب قرار دیا ہے۔

مصر کی طرف سے پیش کردہ یہ تجویز پچھلے منگل سے شروع اسرائیلی کارروائیوں کے آغاز کے بعد بین الاقوامی سطح سے اب تک کی اہم ترین تجویز ہے۔ اس تجویز کے اسرائیل کی طرف سے منظور کیے جانے پر مصر کے نئے صدر عبدالفتاح السیسی کو بین الاقوامی سطح پر پہلی جزوی کامیابی ملی ہے۔

اسرائیلی کابینہ نے اپنے اجلاس میں صدر اوباما کی طرف سے وائٹ ہاوس میں دی گئی افطار پارٹی میں غزہ کی صورت حال پر اظہار خیال پر بھی غور کیا اور کہ اس تجویز سے بہتری آ سکتی ہے۔

دوسری جانب حماس نے کسی سیاسی معاہدے کے کور کے بغیر جنگ بندی کو ایک مرتبہ پھر بے معنی قرار دیا ہے اور پہلے معاہدہ اصرار کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب 2007 سے جاری غزہ کا فوجی محاصرہ بھی ختم کرنے کا مطالبہ دہرایا ہے۔ واضح رہے اصل مسئلہ ہی غزہ کے اسرائیلی فوجی محاصرے سے بگڑا ہے۔

مصری وزارت خارجہ کے پیر کے روز جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا ''مصری تجویز تین مراحل پر مشتمل ہے پہلے مرحلے میں 12 گھنٹوں کے اندر اندر غیر مشروط طور پر عارضی جنگ بندی ہو گی، دوسرے مرحلے پر قاہرہ فریقین کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کرے گا اور تیسرے مرحلے پر دو دن کے اند اندر غزہ کراسنگ کے کھولنے پر قاہرہ میں ہی بات چیت شروع ہو گی۔''

مصری وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس موقع اپنی تجویز کی عرب دنیا سے حمایت کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔ تاہم منگل کی صبح خود مصری سیناء سے بھی اسرائیل پر راکٹ فائر کیے گئے ہیں جس سے کچھ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

حماس کے ترجمان فوزی برھوم نے ایک روز قبل کہا تھا ''سیاسی معاہدہ کے بغیر ہم جنگ بندی کو مسترد کرتے ہیں۔'' درایں اثنا حماس کے رہنما اسماعیل ھنیہ نے اپنے ایک نشری خطاب میں جنگ بندی کی تجویز کی تصدیق کی ہے کہ اس نوعیت کی سفارتی کوشش چل رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں