عراق: چار شامی جاسوس سرعام فائرنگ سے قتل

داعش نے جاسوسوں کو القائم میں موت سے ہم کنار کیا،بعد میں لاشیں لے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے مغربی شہر القائم میں جہادی گروپ دولت اسلامی (داعش) کے جنگجوؤں نے چار شامیوں کو صدر بشارالاسد کے لیے جاسوسی کے جرم میں سرعام گولی سے اڑا دیا ہے۔

عینی شاہدین اور ایک ڈاکٹر کی اطلاع کے مطابق داعش کے جنگجو شام کی سرحد کے نزدیک واقع شہر قائم کے مرکزی بازار میں ان چاروں شامیوں کو ٹرکوں کے ایک قافلے کے ساتھ لائے تھے۔ان میں سے ایک جنگجو نے اعلان کیا کہ یہ افراد صدر بشارالاسد کی حکومت کے لیے جاسوسی کررہے تھے۔

مبینہ جاسوسوں کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور پھر ان کو باری باری گولی مار کر موت سے ہم کنار کردیا گیا۔داعش کے جنگجو اس کے بعد ان کی لاشیں ایمبولینس میں ڈال کر کہیں اور لے گئے ہیں۔القائم اسپتال کے ڈاکٹر مصطفیٰ شوقی نے ان کی موت کی تصدیق کی ہے۔

واضح رہے کہ دولت اسلامی سے تعلق رکھنے والے جہادی عراق اور شام میں اپنی قائم کردہ فوری سماعت کے عدالتوں کے ذریعے مخالفین کو موت کی سزائیں دلواتے ہیں اور اس کے بعد مبینہ مجرموں کو سرعام گولیاں مار کر قتل کردیتے ہیں۔داعش کے جنگجو اسی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ وہ سزاؤں کے نفاذ کے تمام عمل کی ویڈیو فوٹیج یا تصاویر بھی بناتے ہیں اور پھر ان کو آن لائن پوسٹ کردیتے ہیں۔

داعش کے جنگجوؤں نے گذشتہ ماہ عراقی فوج کے خلاف لڑائی کے بعد القائم پر قبضہ کر لیا تھا اور وہاں سے پیش قدمی کرتے ہوئے عراق کے دارالحکومت بغداد کے مغرب اور شمال میں واقع پانچ صوبوں پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا تھا۔اب انھوں نے عراق اور شام میں اپنے زیرنگیں علاقوں میں خلافت قائم کر لی ہے اور داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کو اپنا خلیفہ قرار دے دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کی اطلاع کے مطابق عراق کے مغربی صوبہ الانبار میں ساڑھے چار ہزار سے زیادہ شامی مہاجرین رہ رہے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر القائم کے نزدیک واقع مہاجر کیمپ میں مقیم ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں