نجف میں سعودی، ترک اور قطری مصنوعات پر پابندی عاید

تینوں ملکوں پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق میں اہل تشیع مسلک کے اکثریتی شہر نجف کی وزیر اعظم نوری المالکی نواز ضلعی انتطامیہ نے سعودی عرب، ترکی اور قطر پر دہشت گردی کی پشت پناہی کا الزام عائد کرتے ہوئے ان تینوں ملکوں کی مصنوعات کی اپنے ہاں خرید و فروخت پر پابندی عاید کر دی ہے۔

خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق نجف کی ضلعی کونسل کی جانب سے جاری ایک بیان میں الزام عاید کیا گیا ہے کہ انقرہ، ریاض اور دوحہ عراق میں جاری دہشت گردی کی کارروائیوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ اسی بناء پر نجف اشرف کی ضلعی حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بازاروں میں ان تینوں ملکوں کی مصنوعات پر پابندی کو یقینی بنائیں۔

درایں اثناء نجف اشرف کے پولیس چیف کا بھی ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی حکام ضلع بھر میں سعودی عرب، قطر اور ترکی کی مصنوعات کی خرید و فروخت پر پابندی کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے تیار ہیں۔ "دوست اور عراق کی مدد کرنے والے ملکوں کی مصنوعات پر کوئی پابندی نہیں لیکن دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے والے ممالک کی مصنوعات کی نجف میں درآمدات و برامدات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔"

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تینوں ممالک عراق میں دہشت گردوں کی مالی معاونت کر رہے ہیں۔ ان کے منفی کردار کی وجہ سے نجف میں ان کی مصنوعات کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی.

خیال رہے کہ نجف کی ضلعی انتظامیہ نے نو جولائی کو ایک نیا فیصلہ صادر کیا تھا جس میں سعودی عرب، قطر اور ترکی کو عراق کے"دشمن" ملک قرار دیتے ہوئے ان کی مصنوعات کے ہر سطح پر بائیکاٹ پر زور دیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ عراق کے متنازعہ وزیر اعظم نوری المالکی بھی متعدد مواقع پر سعودی عرب اور قطر پر ملک میں جاری مسلح کارروائیوں میں مدد کے الزامات عائد کر چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں