تلعفر میں 'داعش' کا داخلہ، ہزاروں عراقی ہجرت پر مجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے شورش زدہ شہر موصل کے قریب میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامی عراق وشام "داعش" کی تلعفر شہر میں داخلے کے بعد شہر سے ہزاروں کی تعداد میں شہری نقل مکانی کر گئے ہیں۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تین ہفتے قبل موصل کے شمال مغرب میں 70 کلومیٹر کی مسافت پر واقع تلعفر میں عراقی فوج اور داعش کے جنگجوؤں کے درمیان گھمسان کی جنگ کے بعد شہری گھربار چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔ نقل مکانی کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

تلعفر سے نقل مکانی کرنے والے شہری کربلا اور شمالی عراق کے شہر سنجار میں منتقل ہوئے ہیں۔ سنجار اور اس کے مضافات میں ہزاروں افراد عارضی طور پر پناہ گزین ہوئے ہیں۔ ھجرت کرنے والوں کی اکثریت ترکمان باشندوں پر مشتمل ہے۔

سنجار کے مقامی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ شہر میں بنیادی سہولیات کے فقدان کے باوجود حکومت پناہ گزینوں کی مشکلات کم کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق "تلعفر" سے 12 ہزار خاندانوں کے 58 ہزار افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ نقل مکانی کرنے والوں میں 35 ہزار بچے شامل ہیں۔

سنجار اور کربلا کی مقامی آبادی نے بھی نقل مکانی کرنے والے باشندوں کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہی ہے تاہم ابھی تک پناہ گزینوں کے لیے باضابطہ کیمپ قائم نہیں کیا جا سکا ہے۔ سنجار اور تلعفر باہم متصل ہونے کی بناء پر داعش کی جانب سے راکٹ حملوں کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔ داعش کے جنگجو سنجار اور اس کے مضافات میںبھی راکٹ باری کر رہے ہیں۔

تلعفر میں رہ جانے والے شہری بدترین معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ شہر میں چوبیس گھنٹے میں صرف ایک گھنٹے کے لیے بجلی میسر ہے جبکہ بعض اوقات درجہ حرارت 50 درجے سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے۔

کربلا شہر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں تلعفر سے نقل مکانی کرنے والے ایک ہزار خاندان پہنچ چکے یہں۔ شہر میں انسانی حقوق کی 50 تنظیمیں پناہ گزینوں کی دیکھ بھال کے لئے سرگرم ہیں۔ انسانی حقوق کے اداروں نے توقع ظاہر کی ہے کہ داعش کے زیر انتظام علاقوں سے 12 ہزار خاندان نقل مکانی کے بعد کربلا منقل ہو سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں