سعودی فوج''کیمو فلاج'' حالت میں عراقی سرحد پر موجود

850 کلومیٹر طویل سرحد کی جدید الیکٹرانک آلات سے بھی نگرانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق اور شام کے بعض علاقوں میں اپنی خلافت کا اعلان کرنے والے عسکری گروپ نے اگر اپنی اعلان کردہ خلافت کو پھیلانے اور پوری مسلم دنیا کا حکمران بنانے کی کوشش کی تو اسے سعودی سرحدوں پر ایک خوفناک مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

داعش کے اعلان خلافت کے ساتھ ہی سعودی عرب نے ہزاروں فوجیوں کو سرحدوں پر بھیج دیا ہے۔ اس سے پہلے بھی بعض سرحدی تنگنائیوں پر دفاعی باڑ بھی لگائی جا چکی ہے اور سکیورٹی کو موثر بنایا جا چکا ہے۔

سرحد سے دس کلومیٹر تک کا علاقہ اس طرح ایک اخراجی زون میں بدل دیا گیا ہے اور کئی دفاعی لائینیں کھینچ دی گئی ہیں۔ یہ سلسلہ پوری 850 کلو میٹر پر پھیلی سرحد پر محیط ہے۔ ریڈارز، انفراریڈز اور ویڈیو کیمروں کے ذریعے سرحدوں کی نگرانی 24 گھنٹے جاری ہے۔

گذشتہ مہینے ہی شاہ عبداللہ نے مسلح افواج کو سعودی سلامتی کے لیے ہر اقدام کا حکم دیا ہے۔ شاہ عبداللہ کا یہ حکم سنی عسکریت پسند تنظیم داعش اور عراق میں سر گرم شیعہ ملیشیا سے محفوظ بنانے کے لیے ہے۔

سعودی عرب نے داعش کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ سرحدی دفاع کے لیے کم از ایک ہزار فوجی جوان اور ایک ہزار ہی کی تعداد میں سعودی نیشنل گارڈز ایک مزید کمک کے طور پر بھیجے جا چکے ہیں۔ تاہم سعودی دفاعی حکام نے سرحدوں پر لائے گئے فوجی دستوں کی صحیح تعداد ظاہر نہیں کی ہے۔

سعودی حکام کا کہنا '' داعش سے خطرہ نہِیں ہے وہ محض ایک دہشت گرد گروپ ہے اصل اہمیت شیعہ ملیشیا کی ہے، جسے ایک خاص منصوبہ بندی کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔ ''

سعودی سرحد کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ شام و عراق کی سرحد کی طرح تجارتی شاہراہ کے طور پر نہیں ہے بلکہ سعودی عراق سرحد ایک غیر آباد سرحد ہے۔

سرحدی قصبے آرار کے نزدیکی سرحدی چوکی پچھلے سال اکتوبر میں عراقی عازمین حج کی آمد کے وقت پر آخری بار کھولی گئی تھی۔ سعودی عرب کی طرف سے لگائی گئی باڑ کو توڑنا آسان نہیں ہے۔ اب تک ان باڑوں کو غیر قانونی طور پر عبور کرنے والے 12 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

حالیہ ماہ جون سے سعودی جوانوں کا سرحدی گشت بھی بڑھا دیا گیا ہے جبکہ سعودی فوجی ''کیمو فلاج'' حالت میں ہمہ وقت سرحدوں پر چوکس ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں