یو این کے دباو پر اسرائیل کا پانچ گھنٹوں کے لیے سیز فائر

انسانی بنیادوں پر حماس نے بھی جنگی کارروائیاں روکنے کی توثیق کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کے مطالبے پر اسرائیلی فوج نے جمعرات کے روز پانچ گھنٹوں کے لئے سیز فائر کا اعلان کیا ہے۔ دس روزہ جنگ میں جز وقتی وقفے کا مقصد اہالیاں غزہ کو انسانی بنیادوں پر اشیائے ضروریہ حاصل کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

ادھر حماس نے بھی اقوام متحدہ کے مطالبے پر جز وقتی سیز فائر کے احترام کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے ترجمان ڈاکٹر سامی ابو زہری نے بتایا کہ "مزاحمتی تنظیموں نے اقوام متحدہ کے مطالبے پر انسانی ضروریات کی تکمیل کے لئے میدان جنگ میں پانچ گھنٹوں کے لئے کارروائیاں روکنے پر اتفاق کیا ہے۔"

اسرائیلی فوج نے پہلے ایک بیان میں چھے گھنٹوں کے لئے غزہ پر حملے روکنے کا اعلان کیا تھا تاہم بعد ازاں ایک دوسرے بیان کے ذریعے اس مدت کو پانچ گھنٹے تک محیط کر دیا گیا۔

صہیونی فوج نے اپنے بیان میں بتایا کہ جمعرات کے روز فلسطین کے معیاری وقت صبح دس بجے سے سہ پہر تین بجے کے درمیان انسانی بنیادوں پر جنگ میں وقفہ کیا جائے گا۔ اس مدت کے دوران اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی میں اپنی کارروائیاں بند رکھے گی تاکہ غزہ کے باسی اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انسانی ضرورت کی اشیاء جمع کر لیں۔

بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اس جز وقتی سیز فائر سے حماس یا بقول اسرائیلی فوج کسی دوسری دہشت گرد تنظیم نے 'فائدہ' اٹھانے کی کوشش کی تو فوج اس خلاف ورزی کا فیصلہ کن جواب دے گی۔"

بیاں میں خبردار کیا گیا ہے کہ سیز فائر کی مدت ختم ہوتے ہی اسرائیلی فوج حملے دوبارہ شروع کر دے گی۔ فوجی بیان میں شمالی غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں رہنے والوں سے کہا گیا ہے کہ وہ جمعرات کو مقامی وقت تین بجے کے بعد اپنے گھروں کو واپس نہ لوٹیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں