.

اسرائیلی فوج کی غزہ پر ٹینکوں کے ساتھ زمینی چڑھائی

جنگ پسند صہیونی وزیراعظم نیتن یاہو کی منظوری کے بعد فوج کی پیش قدمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے جنگ پسند وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی منظوری کے بعد جمعرات کو رات گئے اور جمعہ کو علی الصباح غزہ کی پٹی پر مختلف اطراف سے زمینی چڑھائی کردی ہے اور اٹھارہ ہزار ریزرو فوجیوں کو بھی طلب کر لیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ان فوجیوں کی آمد کے بعد آپریشن دفاعی کنارہ میں حصہ لینے کے لیے طلب کیے گئے فوجیوں کی تعداد پینسٹھ ہزار ہو جائے گی۔ تاہم ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ نہتے فلسطینیوں پر مسلط کردہ اس جنگ میں اس وقت کل کتنے صہیونی فوجی شریک ہیں۔

صہیونی فوج کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد اسرائیلی شہریوں کی زندگیوں کا تحفظ اور حماس کو کچلنا ہے۔اس مرحلے کی قیادت اسرائیلی دفاعی فوج کی جنوبی کمان کرے گی اور اس میں انفینٹری ،آرمرڈ کور ،انجنیئیر کور اور انٹیلی جنس مشترکہ طور پر حصہ لیں گی اور انھیں فضائی اور بحری مدد حاصل ہوگی۔

صہیونی فوج کی ٹینکوں اور بکتربند گاڑیوں کے ساتھ غزہ پر چڑھائی کے بعد حماس نے خبردار کیا ہے کہ تل ابیب (اسرائیل) کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔درایں اثناء نے اسرائیل نے جنوبی شہر عسقلان کے نزدیک غزہ کی پٹی سے چلایا گیا حماس کا ایک بغیر پائیلٹ جاسوس طیارہ مار گرایا ہے۔اس ڈرون کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے پیڑیاٹ میزائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز نے کہا ہے کہ اس نے صہیونی دشمن کی فضائی حدود میں ڈرون چھوڑا تھا۔

فضائی حملے

قبل ازیں اسرائیل نے پانچ گھنٹے کے وقفے کے بعد جمعرات کو دوبارہ غزہ کی پٹی پر فضائی حملے شروع کردیے تھے جبکہ اسرائیل اور حماس کے درمیان ممکنہ مستقل جنگ بندی کے لیے بات چیت کی اطلاع بھی سامنے آئی تھی۔

اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ غزہ کے مکینوں کو ضروری سامان کی خریداری کے لیے دیے گئے وقفے کے دوران مسلح دھڑوں نے سرحد پار تین مارٹر گولے فائر کیے ہیں اور وہ عشکول کے علاقے میں گرے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے حماس پر یہ راکٹ فائر کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

لیکن حماس نے اس حملے سے لاتعلقی ظاہرکی ہے اور اسرائیلی بیان کو جھوٹ کا پلندا قرار دیا ہے۔حماس کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ ''اسرائیلی جھوٹ بول رہے ہیں۔تمام فلسطینی دھڑے جنگ بندی کی پاسداری کررہے ہیں۔وہ اس مبینہ حملے کو فلسطینی مزاحمت کاروں کو شہید کرنے کے لیے جواز کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں''۔

درایں اثناء رائیٹرز نے ایک اسرائیلی عہدے دار کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیل اور حماس نے غزہ میں جامع جنگ بندی سے اتفاق کیا ہے اور اس کا جمعہ سے آغاز ہوگا۔اس عہدے دار کا اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا ہے کہ اسرائیل کے ایک سینیر وفد کے مصر میں مذاکرات کے بعد اسرائیلی قیادت نے جنگ بندی کے سمجھوتے کی منظوری دے دی ہے لیکن اس ممکنہ یا مبینہ جنگ بندی کے آغاز سے قبل ہی صہیونی فوج نے غزہ پر زمینی چڑھائی کردی ہے۔

اسرائیلی فوج نے جنگ بندی کا وقفہ ختم ہونے کے بعد ٹینکوں سے بھی غزہ پر گولہ باری کی ہے جس کے نتیجے میں تین فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔غزہ پر گذشتہ دس روز سے جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں دو سو تیس فلسطینی شہید ہوچکے ہیں اور سترہ سو زخمی ہوئے ہیں جبکہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے راکٹ حملوں میں ایک یہودی مارا گیا ہے۔

شہریوں کو بچانے کا مطالبہ

امریکا نے اپنا سفارتی فرض پورا کرنے کے لیے اپنی بغل بچہ ریاست اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کراس فائر میں نشانہ بننے والے شہریوں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کرے مگر مرنے والے یہ شہری فلسطینی ہیں اور یہ کراس فائر میں نہیں بلکہ اسرائیلی فوج کی وحشیانہ فضائی بمباری اور براہ راست گولہ باری میں مارے جارہے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان جین سکئی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ شہریوں کی ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اپنی کوششوں کو دگنا کرے۔ہمیں یقین ہے کہ اس ضمن میں مزید بھی بہت کچھ کیا جاسکتا ہے''۔

سکئی نے بچوں کی اموات کی تصاویر کو خوف ناک قرار دیا اور کہا ہے کہ وزیرخارجہ جان کیری نے اسرائیل کے ساتھ براہ راست اس سلسلے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اس امریکی خاتون ترجمان کا کہنا تھا:''الم ناک واقعات سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ اسرائیل کو شہریوں کو مرنے سے بچانے کے لیے اپنے معیارات کے مطابق ممکنہ اقدامات کرنا ہوں گے''۔ترجمان نے ان معیارات کی وضاحت نہیں کی جبکہ اسرائیلی فوج جس طرح بلاامتیاز غزہ کی پٹی کے شہروں اور قصبوں کو نشانہ بنا رہی ہے،اس سے عام فلسطینیوں کا بچنا محال ہے۔