.

اسرائیل غزہ پر زمینی حملہ روک دے: محمود عباس

صہیونی جارحیت رکوانے کے لیے کوششیں پیچیدگی کا شکار ہوجائیں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی پر زمینی حملہ روک دے کیونکہ اس سے مزید خونریزی ہوگی اور تنازعے کے حل اور اسرائیلی جارحیت رکوانے کے لیے کوششیں پیچیدگی کا شکار ہوجائیں گی۔

فلسطینی صدر جمعہ کو قاہرہ میں مصری دانشوروں اور صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو کر رہے تھے۔مصر کی سرکاری خبررساں ایجنسی مینا کی رپورٹ کے مطابق محمود عباس نے کہا کہ ''اس آپریشن سے خونریزی ہی میں اضافہ ہوگا اور صورت حال پیچیدگی کا شکار ہوجائے گی''۔

فلسطینی صدر نے جمعرات کو قاہرہ میں مصری ہم منصب عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی تھی اور ان سے اسرائیل کی غزہ پر مسلط کردہ جنگ رکوانے کے سلسلے میں بات چیت کی تھی۔ مصری ایوان صدر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ملاقات میں محمود عباس اور صدر السیسی نے جنگ سے تباہ حال غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک ڈونرز کانفرنس بلانے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

انھوں نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ محاصرے کا شکار غزہ کے ساتھ اسرائیلی کراسنگز کو لوگوں اور اشیاء کی نقل و حمل کے لیے کھولا جائے۔البتہ بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان کا اشارہ مصر کے ساتھ واقع رفح بارڈر کراسنگ کی جانب بھی تھا یا نہیں۔

درایں اثناء مصر کی وزارت خارجہ نے غزہ میں اسرائیل کی زمینی کارروائی کی مذمت کی ہے اور دونوں فریقوں سے کہا ہے کہ وہ قاہرہ کی جنگ بندی کی تجویز کو فوری اور غیر مشروط طور پر تسلیم کرلیں۔تاہم مصری وزیرخارجہ سامح شکری کا اسرائیل پر تو بس نہیں چلا اور وہ حماس پر برس پڑے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ''اگر وہ قاہرہ کی جنگ بندی کی تجویز کو قبول کرلیتی تو وہ بیسیوں جانوں کو بچاسکتی تھی''۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے پہلے جنگ بندی کی اس تجویز کو ماننے کا اعلان کیا تھا لیکن چند گھنٹے کے بعد غزہ کی پٹی پر دوبارہ فضائی حملے شروع کردیے تھے اور رات اس نے زمینی چڑھائی بھی کردی تھی۔آج غزہ پر اسرائیل کی بری ،بحری اور فضائی جارحیت کو گیارہ روز ہوگئے ہیں اور اس کے نتیجے میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد ڈھائی سو ہوچکی ہے۔

حماس نے مصر کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کردیا تھا اور اس کے بجائے جنگ بندی کے لیے اپنی شرائط پیش کی تھیں جن میں اسرائیل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ غزہ کی پٹی کا گذشتہ آٹھ سال سے جاری محاصرہ ختم کرے ،مصر کے ساتھ رفح بارڈر کراسنگ کو کھولا جائے اور اسرائیل نے 2011ء میں یرغمالی فوجی گیلاد شالیت کے بدلے میں رہا کیے گئے جن فلسطینی قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کیا ہے،ان کو رہا کرے۔

فلسطینی صدر نے بدھ کو قاہرہ میں حماس کے نائب سربراہ موسیٰ ابو مرزوق سے ملاقات کی تھی۔حماس رہ نما نے بھی ان سے بات چیت میں مصر کے جنگ بندی کے منصوبے میں تبدیلیوں پر اصرار کیا تھا اور یہ مطالبہ کیا تھا کہ اس میں غزہ کی بارڈر کراسنگز کو کھولنے کی ضمانت دی جائے۔

محمود عباس غزہ پر اسرائیلی جارحیت رکوانے کے لیے کوششوں کے سلسلے میں غیر ملکی دورے پر ہیں۔وہ جمعہ کو ترکی اور بحرین جارہے ہیں اور اس کے بعد وہ قطر کے دورے پر جائیں گے۔تاہم ان کی دوحہ میں مقیم حماس کے سربراہ خالد مشعل کے ساتھ ملاقات طے نہیں ہے۔