.

ٹوئٹر: غزہ پر اسرائیلی جنگ براہ راست دکھائی دینے لگی

سعودی شہری سوشل میڈیا کے ذریعے غزہ کے قریب ہو گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خبروں، تجزیوں اور خبری مباحثوں سے دور رہنے والا سعودی نوجوانوں کا طبقہ بھی غزہ پر اسرائیل کے خونی حملوں کے بعد ٹوئٹر پر متحرک ہو گیا ہے۔

سعودی نوجوانوں نے ٹوئٹر کے ذریعے غزہ کے ان مظلوم باسیوں سے براہ راست رابطے بھی کرنا شروع کر دیے ہیں جن کے پاس ابھی بھی انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے اور وہ غزہ سے غافل دنیا کے ضمیر کو جگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان نوجوانوں کی کاوش ٹوئٹر کے توسط سے سامنے آنے والے غزہ کے اندر کے واقعات پر مبنی ہے۔ ان میں سے اکثر ''ٹویٹس'' عین اسی وقت سعودی نوجوانوں کے ذریعے آگے منتقل ہو جاتے ہیں۔

ان میں اسرائیلی بمباری سے ہونے والی شہادتوں، مکانات اور مساجد کی تباہی کے علاوہ بمباری کے اندوہناک مناظر فورا عرب دنیا میں پھیل جاتے ہیں۔ جن کی بدولت دنیا بھر کے لوگوں کے قلب و ذہن کو 8 جولائی سے جاری اسرائیلی بمباری کی تباہ کاریوں سے آگاہ ہو رہے ہیں۔

مدینہ کی رہائشی فاطمہ عبدالوہاب ہائی سکول کی طالبہ ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ غزہ کی ابتر صورت حال کو وہ غزہ میں رہنے والے اپنے ہم عمروں کے ذریعے مسلسل ٹوئٹر اور سوشل میڈیا پر دیکھ رہی ہے۔

فاطمہ کے بقول '' ہم ایک خاندان اور کنبے کی طرح ہو گئے ہیں اگر میں غزہ کے لوگوں کے ٹویٹس کچھ دیر کے لیے نہ دیکھوں تو مضطرب ہو جاتی ہوں کہ ان کے ساتھ کوئی مسئلہ نہ ہوگیا ہو۔ ''

فاطمہ عبدالوہاب نے چند سال پہلے فیس بک کا استعمال شروع کیا تھا لیکن اب اس نے اپنی دلچسپی کا مرکز ٹوئٹر کو بنا لیا ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ اس کے ذریعے وہ جذبات کا بہتر اظہار کر سکتی ہے۔

ٹوئٹر کے ذریعے وہ شاعری اور عربی ادب اور ادیبوں کے بارے میں اپنی محبت کا اظہار بھی کر سکتی ہے۔ لیکن فاطمہ عبدالوہاب کا کہنا ہے '' ان دنوں ٹوئٹر خالصتا غزہ کے لوگوں کے لیے دعاوں تک محدود کر دیے ہیں، تاکہ اسرائیل کے ہاتھوں ان کی نسل کشی کو سامنے لایا جا سکے۔''

ہر عمر اور طبقے کے سعودی شہری سوشل میڈیا پر غزہ کے حوالے سے اسی طرح کی سرگرمیاں عربی یا انگلش میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے ٹویٹس اہل غزہ کے لیے دعاوں، حوصلے اور ہمدردی کا باعث ہیں۔

ان ٹویٹس کے ذریعے اہل غزہ کے دکھوں، زخموں، بچوں پر ہونے والے مظالم کے احوال کے علاوہ ان موضوعات پر مبنی تصاویر عام طور پر ایک دوسرے کو ٹویٹ کی جاتی ہیں۔

شروع میں ان ٹویٹس پر اسرائیل سے متعلق کارٹون وغیرہ آتے تھے لیکن اب جوں جوں غزہ میں ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں۔ ان ٹویٹس میں ہلاکتوں اور تباہیوں کا ذکر زیادہ ملنے لگا ہے۔

ایک بحث جو ان دنوں جاری ہے وہ یہ ہے کہ '' جنگ شروع کس نے کی ہے۔'' کچھ کی رائے ہے کہ آغاز کی ذمہ داری اسرائیل پر عاید ہوتی ہے جو فلسطینیوں کے بارے میں سخت جارحانہ پالیسیاں رکھتا ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اس کا معمول ہے۔

جبکہ یہ رائے بھی موجود ہے کہ جنگ حماس نے شروع کی ہے۔ عبداللہ بن احمد نے اسی سال انجینئرنگ کالج سے گریجوایشن کی ہے کا کہنا ہے میں نہیں جانتا کون کیا کہتا ہے ، میں صرف اتنا جانتا ہوں یہ ایک انسانی مسئلہ ہے اور ایک فریق واضح طور پر اخلاقیات اور انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔''

عبداللہ بن احمد نے اس معاملے میں اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا '' ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے ہم اپنے بہن بھائیوں کے لیے اس مقدس مہینے کے دوران صرف دعائیں کر سکتے ہیں۔ ''

ٹوئٹر پر کچھ سعودی شہریوں نے اسرائیلی حکام کو براہ راست بھی مخاطب کیا ہے اور ان کی توجہ فلسطینی بچوں، عورتوں اور دوسرے لوگوں پر ہونے والے مظالم کی جانب مبذول کرائی ہے۔

سہائر الاحمدی نے کہا انہوں نے 2008 کی غزہ پر مسلط کی جانے والی جنگ کو دیکھا ہے اس کی خوفناکی کے باعث وہ کئی دن تک سو نہ سکی تھیں۔