شامی حکومت کا پاسپورٹ میں تبدیلی کا فیصلہ

فیصلے کا مقصد اسد مخالف سیاستدانوں کی نقل و حرکت روکنا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام نے حکومت مخالف سیاستدانوں کی بیرون ملک آزادانہ نقل و حرکت کے آگے بند باندھنے کے لیے سیکیورٹی اقدامات کی آڑ میں قومی پاسپورٹ میں اہم تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مجوزہ تبدیلیوں کے بعد پرانے پاسپورٹ منسوخ کر دیئے جائیں گے جس سے سب سے زیادہ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاستدان متاثر ہوں گے۔

حکومت نواز شامی اخبار 'الوطن' نے مجوزہ منصوبے کے اہم خدوخال اپنی حالیہ اشاعت میں منکشف کئے ہیں۔

شامی ذرائع ابلاغ میں مجوزہ قانون سے متعلق سامنے آنے والی معلومات میں یہ نہیں بتایا گیا کہ نئے پاسپورٹ میں کیا بنیادی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں زیادہ تر پاسپورٹ میں جعلسازی روکنے سے متعلق ہیں۔

پاسپورٹ میں تبدیلیوں سے متعلق مسودہ جلد ہی شامی پارلیمنٹ سے منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا۔ مسودے میں سفری دستاویزات میں ہیر پھیر کرنے پر سخت سزا تجویز کی گئی ہے۔ نیز پاسپورٹ میں جعلسازی روکنے کے لئے اہم اقدامات بھی مسودہ قانون میں بیان کئے گئے ہیں۔

اگر شامی میڈیا میں آنے والی یہ خبریں درست ہوئیں تو ملک کے اندر اور بیرون ملک بشار الاسد کے سیاسی مخالفین اور حکومت کو مطلوب افراد سفر کے قابل قانونی دستاویز سے محروم ہو جائیں گے۔

حکومت مخالف سیاستدان، لازمی فوجی سروس کے بھگوڑے اور اہم اشتہاری پہلے گذشتہ تین برس شکایات کر رہے ہیں کہ انہیں نئے پاسپورٹ جاری نہیں کئے جا رہے اور نہ ہی ان کے پرانے پاسپورٹس کی تجدید نہیں کی جا رہی ہے۔

ان افراد نے بلیک مارکیٹ میں شامی پاسپورٹ کی خرید و فروخت کا کام کرنے والے حلقوں کے ذریعے پاسپورٹ حاصل کئے۔ بعض علاقوں میں یہ کاروبار کھلے عام ہو رہا ہے اور شام کا دو نمبر پاسپورٹ ڈھائی ہزار ڈالرز کی ادائی پر بآسانی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں