عراقی صدر جلال طالبانی کی آج جرمنی سے وطن واپسی

بیرون ملک زیرعلاج رہنے کے بعد دوبارہ صدارتی فرائض سنبھالیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراقی صدر جلال طالبانی آج ہفتے کے روز جرمنی سے واپس وطن پہنچ رہے ہیں۔وہ دسمبر 2012ء سے جرمنی میں زیرعلاج تھے۔

ان کی جماعت پیٹریاٹک یونین آف کردستان نے جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں اطلاع دی ہے کہ صدر طالبانی برادر ملک جرمنی میں کامیاب علاج کے بعد ہفتہ 19 جولائی کو واپس وطن آ رہے ہیں اور وہ جمہوریہ عراق کے صدر کی حیثیت سے اپنے فرائض سنبھال لیں گے۔

ان کے بیٹے اور خودمختار کردستان کی علاقائی حکومت کے نائب وزیراعظم قباد طالبانی نے بھی اپنے اسّی سالہ والد کی وطن لوٹنے کی تصدیق کی ہے اور ان کی صحت یابی پر عوام کو مبارک باد دی ہے۔

جلال طالبانی 2005ء سے شراکت اقتدار کے غیر رسمی فارمولے کے تحت عراق کے صدر چلے آرہے ہیں۔اس وقت عراق بدترین بحران سے دوچار ہے۔ایک طرف تو دولت اسلامی (داعش) کے جنگجوؤں نے پانچ صوبوں میں گذشتہ ایک ماہ کے دوران عراقی فوج کا جنازہ نکال دیا ہے اور وہاں خلافت کے نام سے اپنی حکومت قائم کرلی ہے جبکہ دوسری جانب ملک میں سیاسی بحران جاری ہے اور وزیراعظم نوری المالکی اندرون اور بیرون ملک سے مخالفت کے باوجود تیسری مدت کے لیے وزیراعظم بننا چاہتے ہیں۔

نوری المالکی کی اہل تشیع اور اہل سنت کے علاوہ جلال طالبانی کے سابقہ سیاسی حریف اور کردستان کے علاقائی صدر مسعود بارزانی بھی شدید مخالفت کررہے ہیں اور وہ انہی کو ملک میں جاری موجودہ بحران کا ذمے دار ٹھہرا رہے ہیں جس کے دوران کردسکیورٹی فورسز البیش المرکہ نے کرکوک شہر اور دوسرے متنازعہ علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔نوری المالکی نے اگلے روز ایک بیان میں کردستان کی علاقائی حکومت پر داعش کے جنگجوؤں اور سابق صدر صدام حسین کی کالعدم جماعت بعث پارٹی کے وابستگان کو پناہ دینے کا الزام عاید کیا تھا۔کردحکومت نے اس الزام کی سختی سے تردید کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں