غزہ جنگ کوّر کرنے والے غیرملکی صحافیوں کو انتباہ

رپورٹنگ کے دوران زخمی ہونے پرصہیونی ریاست ذمے دار نہیں ہوگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی حکومت کے پریس دفتر نے غزہ کی پٹی میں جنگ کی کوریج کرنے والے غیرملکی صحافیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ وہاں ان کے تحفظ کا ذمے دار نہیں ہوگا۔

اسرائیلی حکومت کے پریس دفتر نے ایک ای میل بیان میں کہا ہے کہ ''غزہ اور اس کے نواحی علاقے میدان جنگ ہیں،وہاں لڑائی کی کوریج کرنے والے صحافیوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔فیلڈ رپورٹنگ کے دوران کسی کے زخمی یا نقصان کی صورت میں اسرائیل ذمے دار نہیں ہوگا''۔

یہی پریس دفتر اسرائیل میں کام کرنے والے غیرملکی میڈیا سے وابستہ صحافیوں کو ایکریڈیشن کارڈ جاری کرتا ہے اور ان میں سے بہت سے صحافی فلسطینی علاقوں میں رونما ہونے والے واقعات کو بھی کوّر کرتے ہیں ۔اس دفتر نے صحافیوں کو تحفظ کی کوئی ضمانت دینے بجائے الٹا اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ صحافیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کررہی ہے۔

بہت سے غیرملکی صحافی اسرائیلی فوج کی 8 جولائی سے فلسطینیوں پر مسلط کردہ جنگ کی کوریج کے لیے غزہ پہنچے ہوئے ہیں۔اسرائیلی فوج نے پہلے تباہ کن بمباری کی تھی اور گذشتہ جمعرات سے وہ غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف زمینی کارروائی کررہی ہے۔اسرائیل کی اس ننگی جارحیت میں تین سو اسّی فلسطینی شہید اور سیکڑوں زخمی ہوگئے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے گنجان آباد غزہ کی پٹی کی 2500 جگہوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا ہے جبکہ فلسطینی مزاحمت کاروں نے 1760 راکٹ اسرائیلی علاقوں کی جانب فائر کیے ہیں مگراسرائیلی فوج کی برّی جارحیت بھی فلسطینیوں کو راکٹ حملوں سے نہیں روک سکی ہے اور انھوں نے ہفتے کے روز نوّے سے زیادہ راکٹ فائر کیے تھے۔ان کے نتیجے میں تین اسرائیلی فوجیوں سات افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں