خالد مشعل کی دورہ مصر سے معذرت

"فائر بندی کے بارے میں ہمارا موقف واضح ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پولٹ بیورو اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے جلاوطن سربراہ خالد مشعل نے چند وسطاء کے ذریعے دورہ مصر کی پیشکش قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس پیشکش کا مقصد سیز فائر کے لئے مصری منصوبے پر گفتگو کو کے سلسلے کو آگے بڑھانا تھا۔

حماس ذرائع کے مطابق تحریک نے دورہ مصر کی دعوت یہ کہتے ہوئے قبول کرنے سے انکار کیا ہے کہ "مصری کوششوں کے حوالے تنظیم کا نقطہ نظر سب پر واضح ہے۔"

حماس کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینی مطالبات کی تکمیل کے لئے کسی بھی جانب سے ہونے والی کوشش سے تعاون کے لئے تیار ہیں۔

اس سے قبل حماس کا یہ اعلان سامنے آیا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ غزہ میں جنگ بندی کے کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کریں گے جب تک اس سے پہلے فلسطینیوں کے مطالبات تسلیم نہ کئے جائیں۔

سیز فائر کے بارے میں مصری کوششوں کو مسترد کرنے کا جواز حماس یہ کہ کر پیش کر رہی ہے کہ اعلانیہ فائر بندی منصوبے میں لڑائی روکنے کی بات کی گئی ہے اس میں اسرائیل، فلسطینیوں کی کسی شرط کا احترام کرنے کا پابند نہیں، جس کہ وجہ سے غزہ کا معاملہ پھر نکتہ صفر پر آ جائے گا۔

فلسطینی مزاحمت کاروں نے اسرائیل سے جنگ بندی معاہدے کی تفصیل جاری کی ہے، جس کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسے قطر اور ترکی کی سرپرستی حاصل ہے۔

اس پیشکش میں فوری اور مکمل فائر بندی، غزہ کی پٹی کے محاصرے کا خاتمہ، حالیہ مہم کے دوران غرب اردن سے گرفتار ہونے والے تمام قیدیوں کی رہائی جیسے مطالبات نمایاں ہیں۔ فلسطینی مزاحمت کار چاہتے ہیں کہ اس معاہدے کی نگرانی امریکا خود کرے۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ قطر نے فلسطینی مزاحمت کاروں کے فائر بندی تجاویز امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے توسط سے اسرائیل تک پہنچائیں ہیں۔ فلسطینی مزاحمت کاروں کی فائر بندی تجاویز کے معاہدے میں درج ذیل مطالبات شامل ہیں۔

1۔ دونوں فریقین کی جانب سے فوری اور مکمل فائر بندی۔

2۔ دو طرفہ بنیادوں پر تمام فوجی اور سیکیورٹی اہداف کو نشانہ نہ بنانے کا اعلان۔

3۔ اسرائیل، غزہ کی پٹی کا زمینی اور بحری محاصرہ مکمل طور پر ختم کرنے وعدہ کرے، غزہ کی بندرگاہ چالو کی جائے اور تمام سرحدی راہداریاں کھولی جائیں تاکہ بجلی، ایندھن، تعمیری مواد اور فلسطینیوں کی ضروریات کا سارا سامان غزہ آنے کی راہ ہموار ہو، علاقے کا اقتصادی اور مالی محاصرہ ختم کیا جائے، بحیرہ متوسطہ میں 12 ناٹیکل میل تک ماہی گیری اور نقل و حرکت کو یقینی بنایا جائے۔ غزہ کے سرحدی علاقوں میں آزادانہ نقل حرکت، بفر زونز کا خاتمہ اور غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کے کاموں کا فوری آغاز کیا جائے۔

4۔ اسرائیل 11/10/2011ء میں حماس کے ساتھ تبادلہ اسیران معاہدے پر عمل کرتے ہوئے تمام گرفتار افراد کو رہا کرے، اس میں ان قیدیوں کی آزادی بھی شامل ہے جنہیں اسرائیل نے رہائی کے بعد دوبارہ حراست میں لیا۔ غرب اردن میں فلسطینیوں کے خلاف 12/06/2014 کے بعد عاید تمام اقدامات اور اجتماعی سزاوں کا سلسلہ بند کیا جائے، تمام قیدی بالخصوص فسلطینی قانون ساز اسمبلی اسپیکر سمیت تمام منتخب نمائندے رہا کئے جائیں۔ ضبط کئے جانے والے نجی اور پبلک اداروں کو کھولا جائے۔ بار بار انتظامی نظر بندی کی پالیسی پر عمل فوری طور پر روکا جائے اور اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی قیدیوں کو سزا دینے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

ادھر خالد مشعل کویت کے امیر الشیخ صباح الاحمد الصباح سے ملاقات کے لئے کویت سٹی پہنچ گئے ہیں۔

میڈیا ذرائع کے مطابق خالد مشعل اپنے دورے میں امیر کویت کے ہمراہ غزہ کی موجودہ صورتحال اور غزہ کی پٹی کے خلاف بڑھتی ہوئی جارحیت سے متعلق تبادلہ خیال کریں گے۔

یاد رہے اس وقت غزہ میں جنگ بندی کرانے کی غرض سے علاقے میں سفارتی کوششوں کا سلسلہ تیز ہو چکا ہے کیونکہ غزہ کی پٹی پر چودہ دن سے مسلسل حملوں میں ابتک 344 فلسطینی شہید اور دو ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ اس سے کہیں بڑے پیمانے پر مکانات اور دیگر ادارے تباہ ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں