شام : خاتون نائب صدر کا تقرر ،فاروق الشرع پر خاموشی

81 سالہ نجاح العطار نے صدارتی فرمان کے ذریعے تقرر کے بعد حلف اٹھا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شامی صدر بشارالاسد نے اکاسی سالہ خاتون نجاح العطار کو دوبارہ ملک کی نائب صدر مقرر کردیا ہے لیکن انھوں نے فاروق الشرع کے دوبارہ تقرر سے متعلق کوئی اعلان نہیں کیا۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کی رپورٹ کے مطابق بشارالاسد نے ایک صدارتی فرمان کے ذریعے خاتون نائب صدر کا تقرر کیا ہے لیکن اس میں فاروق الشرع کے تقرر کا کوئی حوالہ نہیں دیا۔نجاح العطار نائب صدارت کے عہدے پر فائز ہونے والی پہلی شامی خاتون ہیں۔

پچھہتر سالہ فاروق الشرع گذشتہ کچھ عرصے سے شامی منظرنامے سے بالکل غائب ہیں۔بشارالاسد نے جولائی 2013ء میں انھیں باضابطہ طور پر سبکدوش کرنے کے بجائے بعث پارٹی کی ذمے داریوں سے ہٹا دیا تھا۔

شام کے بائیس سال تک وزیرخارجہ رہنے والے فاروق الشرع اہل سنت سے تعلق رکھتے ہیں۔انھوں نے تین سال قبل صدر بشارالاسد کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کو کچلنے کے لیے فوج کے استعمال کی مخالفت کی تھی اور بحران کے سیاسی حل کی ضرورت پر زوردیا تھا۔

انھوں نے دسمبر 2012ء میں لبنانی روزنامے الاخبار کے ساتھ انٹرویو میں کہا تھا کہ بشارالاسد فیصلہ کن کامیابی کے لیے فوجی حل کی خواہش کو چھپاتے نہیں ہیں لیکن فوجی قوت کےا ستعمال سے کسی بغاوت کو فرو نہیں کیا جاسکتا ہے۔سکیورٹی فورسز اور فوج کے یونٹوں کی کارروائیوں سے جنگ کا خاتمہ نہیں ہوگا۔

انھوں نے اس انٹرویو میں یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ شامی صدر نے تمام اختیارات اپنی ذات میں مرتکز کررکھے ہیں۔سیاسی اشرافیہ میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے لیکن یہ کوئی زیادہ گہرے اختلافات نہیں ہیں۔فاروق الشرع مشرقی شہر درعا سے تعلق رکھتے ہیں اور اسی شہر سے مارچ 2011ء میں صدر بشارالاسد کے خلاف عوامی احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوا تھا۔

بشارالاسد نے اپنے خلاف ان پُرامن مظاہروں کو کچلنے کے لیے طاقت کا بے مہابا استعمال کیا تھا جس کے بعد مظاہرین نے بھی ہتھیار اٹھا لیے تھے اور یوں شام میں خانہ جنگی چھڑ گئی تھی۔سنہ 2011ء کے وسط سے جاری اس خانہ جنگی کے نتیجے میں ایک لاکھ ستر ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ملک کی نصف آبادی بے گھر ہوچکی ہے۔ان میں سے بیشتر شامی پڑوسی ممالک میں پناہ گزین کیمپوں میں مہاجرت کی زندگی گزار رہے ہیں یا پھر اندرون ملک دربدر ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں