اسرائیل کی 14 روزہ جارحیت میں 550 فلسطینی شہید

فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ جھڑپوں میں مزید سات صہیونی فوجی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کی غزہ کی پٹی میں گذشتہ چودہ روز سے جاری فوجی جارحیت میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد کم سے کم ساڑھے پانچ سو ہو گئی ہے۔سوموار کو اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں اور گولہ باری میں بیس افراد شہید ہوئے ہیں جبکہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ جھڑپوں میں مزید سات صہیونی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

اسرائیلی آرمی کے ریڈیو کی اطلاع کے حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز سے تعلق رکھنے والے دس گیارہ جنگجوؤں نے آج صبح غزہ کی سرحد پر ایک خفیہ سرنگ کے ذریعے حملہ کیا تھا جس میں چار فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔تین فوجی غزہ شہر کے نواح میں لڑائی میں مارے گئے ہیں۔

غزہ پر گذشتہ جمعرات سے صہیونی فوج کی زمینی چڑھائی کے بعد فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ لڑائی میں مرنے والے فوجیوں کی تعدد پچیس ہوگئی ہے۔تیرہ فوجی صرف اتوار کو ہلاک ہوئے تھے اور 2006ء میں حزب اللہ کے ساتھ لڑائی کے بعد ایک دن میں اسرائیلی فوج کا یہ سب سے زیادہ جانی نقصان تھا۔ان کے علاوہ دو عام شہری بھی مارے گئے ہیں۔

قبل ازیں غزہ کی ایمرجنسی سروسز کے ترجمان اشرف القدرہ نے بتایا ہے کہ اتوار کو اسرائیلی بمباری میں تباہ ہونے والے ملبوں سے پینتالیس مزید نعشیں نکالی گئی ہیں۔ان میں سے گیارہ شجاعیہ کے علاقے سے نکالی گئی ہیں جس کے بعد گذشتہ روز شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد بہتر ہوگئی ہے۔

اسرائیلی فوج کے ٹینکوں نے آج غزہ کے وسط میں واقع الاقصیٰ اسپتال پر گولہ باری کی ہے جس کے نتیجے میں چار افراد شہید اور ستر زخمی ہوگئے ہیں۔اشرف القدرہ نے بتایا ہے کہ اسرائیلی ٹینکوں سے فائر کیے گئے گولے اسپتال کی تیسری منزل پر واقع انتظامی بلاک ،انتہائی نگہداشت کے یونٹ اور سرجری ڈیپارٹمنٹ پر گرے ہیں۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے غزہ کے علاقے شجاعیہ میں بہتر افراد کی شہادت کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ جو لوگ اس جرم کے مرتکب ہوئے ہیں،انھیں سزا کے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے بھی شجاعیہ میں ظالمانہ کارروائیوں کی مذمت کی ہے اور اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ضبط وتحمل کا مظاہرہ کرے۔انھوں نے دوحہ میں نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''بہت سے بے گناہ لوگ مارے جارہے ہیں اور مستقل طور پر خوف کی حالت میں رہ رہے ہیں''۔بین کی مون جنگ بندی کی کوششوں کے سلسلے میں مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں