حماس کارروائی میں ہلاک دو اسرائیلی فوجی امریکی شہری نکلے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ اتوار کی شام میں غزہ میں جاری جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے 13 اسرائیلی فوجیوں میں دو امریکی شہری بھی شامل تھے۔

لاس اینجلس کی یہودی فیڈریشن کی جانب سے جاری کردہ خط میں بتایا گیا تھا کہ ان فوجیوں میں سے ایک امریکی ریاست کولوراڈو کے علاقے سان فرنانڈو کا رہائشی میکس سٹاینبرگ اسرائیلی فوج کے گولانی بریگیڈ میں نشانچی تھا۔ اس کے علاوہ دوسرا فوجی امریکی ریاست ٹیکساس سے تعلق رکھنے والا نسیم شان کارمیلی تھا اور وہ بھی گولانی بریگیڈ میں ہی شامل تھا۔

امریکی وزارت خارجہ نے ان دونوں افراد کی موت کی تصدیق کردی ہے اور بتایا ہے کہ یہ دونوں شخص امریکی شہری تھے۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ ملہوک فوجیوں کے پاس اسرائیلی شہریت بھی تھی یا نہیں۔

یہ دونوں فوجی غزہ کے مضافاتی علاقے شجاعیہ میں فلسطینی مزاحمت کی کارروائی کا نشانہ بن گئے تھے۔

یہودی فیڈریشن کے مطابق سٹاینبرگ نے اسرائیل کے پیدائشی حق پروگرام کے تحت اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔ اسرائیلی پیدائشی حق پروگرام دنیا بھر کے نوجوان یہودی بالغوں کو اسرائیل کے دورے کے لئے پیسے فراہم کرتا ہے۔ اس کے بعد میکس نے دسمبر 2012 میں اسرائیل واپس آکر فوج میں شمولیت اختیار کرلی۔

لاس اینجلس کے یہودی جرنسل نے ان کے آبائی گھر میں ان کے والد اسٹیورٹ سٹاینبرگ سے کئے جانے والے انٹرویو کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیل کے دورے نے میکس کو یہ باور کروایا کہ اسرائیل ہی وہ جگہ ہے جہاں اسے ہونا چاہئیے ہے۔
اخبار نے اپنے اسٹیورٹ کے حوالے سے بتایا کہ" امریکی ہونے کے باوجود اسے اسرائیل کے ساتھ ایک رشتہ نظر آیا۔"

اتوار کے روز اسرائیلی صفوں میں ہونے والا جانی نقصان سنہ 2006ء میں حزب اللہ جنگجوئوں کے خلاف مسلط کی جانے والی صیہونی جنگ کے بعد سب سے زیادہ نقصان ہے۔ جبکہ الشجاعیہ میں ہونے والی فلسطینی شہادتیں 8 جولائی سے شروع ہونے والے اسرائیلی حملے میں ایک دن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں