عراق: داعش کرد علاقوں میں پیش قدمی نہ کر سکی

کرد سرحدی اور اسلحی اعتبار سے مضبوط ہیں: ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عراق جس کے دوسرے بڑے شہر موصل پر قبضے سے داعش کی پیش قدمی شروع ہوئی تھی ابھی تک عراقی کردستان تک رسائی سے محروم ہے۔ کردستان پر داعش کے سائے نہ پڑ سکنے کی ایک وجہ کرد دفاعی طاقت کا موثر ہونا ہے اور دوسری وجہ فی الحال کردستان کا داعش کی ترجیحات میں نہ ہونا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ابتداءَ داعش کی ترجیح صرف نوری المالکی کی حکومت کا خاتمہ ہے نیز کردوں کے ساتھ اس کے تصادم سے گریز کی ایک وجہ دو طرفہ افہام و تفہیم بھی ہو سکتی ہے۔

امریکی حکام کے لیے 2003 سے 2006 تک کام کرنے والے علی حیدری نے '' العربیہ '' سے بات کرتے ہوئے کہا '' بغاوت کرنے والے گروہوں کے درمیان ڈھیلا ڈھالا اتحاد مشترکہ مقاصد کے لیے امکانی طور پر موجود ہے۔ ہوسکتا ہے وہ چاہتے ہوں کہ پہلے بغداد پر قبضہ کیا جائے اور مالکی رجیم سے نجات پائی جائے، ان باغی گروپوں کے خیال میں باہمی لڑائی شروع کرنا ایران کے حق میں جا سکتا ہے۔''
حیدری نے مزید کہا '' داعش ایک محاذ پر حالت جنگ میں ہوتے ہوئے کردستان پر حملہ کر کے اپنے لیے دوسرا محاذ نہیں کھولنا چاہتی۔'' واضح رہے علی حیدری ان دنوں دوبئی میں قائم ایک ادارے کے سربراہ ہیں۔

علی حیدری کا کہنا ہے کہ ''المالکی ضرور کردوں کو داعش کے مدد گار سمجھتے ہیں کہ داعش مکمل طور پر سنیوں پر مشتمل عسکری گروپ ہے۔ علی حیدری نے مزید کہا '' المالکی کے خلاف لڑنے والے پانچ سے دس فیصد داعش کے لوگ ہیں، بیس فیصد بعث پارٹی کے متعلقین ہیں اور ستر سے پچہتر فیصد سنی عرب قبائل ہیں۔''

تجزیہ کار حیدری نے یہ بھی کہا '' عراقی آمر صدام حسین نے بعث پارٹی کے ذریعے حکمرانی کی اور 1979 سے 2003 میں امریکا کی آمد تک اس جماعت کی حکمرانی رہی، تب سے بعث کے لوگ اور قبائلی رہنما جن میں شیخ علی حاتم اور احمد دباش شامل ہیں اب اربیل میں مسحکم مرکز رکھتے ہیں، مالکی اپنے خلاف سازش کے اہم کردار انہیں ہی سمجھتے ہیں۔''

دریں اثناء امریکی فوجی ذمہ داریوں پر رہنے والے سابق عہدیدار مائیکل پی پریجینٹ نے مالکی کے الزام کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا'' وزیر اعظم مالکی اس امر پر پریشان ہیں کہ کرد داعش کے خلاف برسر پیکار نہیں۔''

امریکی ذمہ دار نے کہا داعش کے کردوں کے خلاف نہ لڑنے کی وجہ یہ ہے کہ کردوں کے پاس قومی سرحد موجود ہے، وہ جدید ہتھیاروں سے لیس ہیں، حتی کہ ان کے پاس ٹینک اور توپ خانہ بھی ہے، اسی طرح کردوں نے اپنی پوزیشن کو مستحکم رکھا ہوا ہے۔''

ان دنوں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی واشنگٹن میں لیکچرر کے طور پر کام کرنے والے مائیکل پی پریجنٹ نے مزید یہ کہا '' کردوں کو پوری طرح یہ علم ہوتا ہے کہ ان کے علاقے میں کون آیا ہے اور کون گیا ہے، کردوں کی عسکری ملیشیا پیشہ ورانہ بنیادوں پر بہت منظم ہے۔''
کرکوک میں موجود تجزیہ کار عبدالرحمان الشیخ نے سنی قبائل کے داعش کو کرکوک کی طرف دیکھنے سے کیسے روک رکھنے کی کامیاب حکمت عملی کے بارے میں بتایا '' سنیوں کے عرب قبائل اور کردوں کے درمیان مضبوط معاہدے موجود ہیں، اس لیے داعش کے تکریت کی طرف بڑھنے کا امکان کم ہے۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں