.

غزہ پر حملہ، مضبوط عالمی حمایت حاصل ہے:نیتن یاہو

ترک وزیراعظم کے فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت مخالف تندوتیز بیانات پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنگ پسند صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل کو غزہ پر فوجی حملے کے لیے بین الاقوامی جواز حاصل ہوگیا ہے۔

صہیونی وزیراعظم نے اتوار کو تل ابیب میں ایک نیوزکانفرنس کے دوران کہا ہے کہ ''اسرائیل کو غزہ سے آنے والے راکٹوں کے جواب میں اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور اس سلسلے میں اس کو بہت مضبوط بین الاقوامی حمایت حاصل ہے''۔

وہ عرب دنیا اور بیشتر اسلامی ممالک سمیت عالمی برادری کی غزہ پر صہیونی فوج کی جارحیت کے ردعمل میں مکمل خاموشی ہی کو قانونی جواز قرار دے رہے ہیں۔گذشتہ تیرہ روز سے جاری اس جارحیت کے نتیجے میں چار سو تیس سے زیادہ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔

نیتن یاہو نے نہتے فلسطینیوں پر اس ننگی جارحیت کو جائز قرار دینے کے لیے عجیب اور مضحکہ خیز دعویٰ کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''اسرائیل نے 15 جولائی کو مصر کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی کی تجویز کو قبول کر لیا تھا لیکن حماس نے اس کو مسترد کردیا تھا۔اس لیے اس کے بعد اسرائیل کو اہل غزہ کے خلاف فوجی کارروائی کا جائز حق حاصل ہوگیا ہے''۔

اںھوں نے کہا کہ ''اس فوجی آپریشن کو واشنگٹن کی حمایت حاصل ہے۔اسرائیل ایک جمہوری ریاست کی حیثیت سے اپنے دفاع کے لیے جائز آلات و ذرائع استعمال کررہا ہے اور انھی لوگوں کو نقصان پہنچا رہا ہے جو ہم پر راکٹ برسا رہے ہیں اور یہ امتیاز بہت سے عالمی لیڈروں پر واضح ہے''۔

اب جھوٹ کا سہارا لینے والے نیتن یاہو یا ان کے ہم نوا مغربی لیڈر ہی بتاسکتے ہیں کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری اور گولیوں کا نشانہ بننے والے بچوں ،بوڑھوں اور خواتین نے کہاں راکٹ فائر کیے تھے۔یہ اور بات ہے کہ امریکی صدر براک اوباما نے کہنے کی حد تک غزہ میں شہریوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے لیکن انھوں نے اسرائیلی فوج کو جارحیت سے روکنے کے لیے ہنوز کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے اسرائیل کو جارحیت سے باز رکھنے کے بجائے حماس کو غزہ میں فلسطینیوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کا ذمے دار قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے جنگ بندی کی کوششوں سے انکار کردیا ہے اور اس طرح اسرائیل کو مزید اقدامات کی دعوت دی ہے۔ انھوں نے اسلامی تحریک مزاحمت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے اقدامات کی ذمے داری قبول کرے۔

ترک وزیراعظم پر تنقید

نیتن یاہو نے اپنی نیوزکانفرنس کے دوران ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوان کو غزہ میں اسرائیلی جارحیت کو نازی جرمنوں سے مشابہ قراردینے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ ان کے بیان کا لب ولہجہ صہیونی مخالف ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''ترکی کے وزیراعظم نے جو کچھ کہا ہے،وہ میں نے سنا ہے۔ان کے الفاظ بہت ہی سنگین ہیں۔میں نے امریکی وزیرخارجہ جان کیری کو ان یہود مخالف بیانات کے بارے میں آگاہ کردیا ہے''۔

رجب ایردوآن نے اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکا کو بھی اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف طاقت کے بے مہابا استعمال کی حمایت کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اس سے کہا ہے کہ وہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت کو رکوانے کے لیے اپنی ذمے داریوں کو پورا کرے۔انھوں نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت پر عالم اسلام کی خاموشی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔