پاسداران انقلاب کے5000 فوجیوں کی عراق میں موجودگی کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی اخبار ورلڈ ٹرائیبون نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کے مخالف جنگجوؤں کی سرکوبی کے لیے بغداد سمیت ملک کے دوسرے شہروں میں پاسداران انقلاب کے 5000 فوجی تعینات کر رکھے ہیں۔

اخبار لکھتا ہے کہ عراق میں نوری المالکی کی حمایت اور باغیوں کے خلاف آپریشن کی براہ راست نگرانی تہران سے پاسداران انقلاب کی بیرون ملک آپریشن کی ذمہ دار ایلیٹ القدس فورس کر رہی ہے۔

امریکی اخبار نے عراق کے ایک کرد ذریعے کے حوالے سے مزید بتایا کہ عراق میں وزیر اعظم نوری المالکی کی فوجی سرگرمیوں کی نگرانی بھی ایرانی پاسداران انقلاب کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے پاسداران انقلاب نے فوج کی پہلی کھیپ موصل پر باغیوں کے قبضے کے ایک ہفتے بعد بغداد روانہ کی تھی۔

خیال رہے کہ عراق میں ایرانی فوج کی موجودگی کا امریکی اخبار کا دعویٰ اس نوعیت کی پہلی خبر نہیں بلکہ اس اسے قبل خود ایرانی پریس میں عراق میں مارے جانے والے فوجیوں کی تصاویر اور ان کی تدفین کی خبریں آتی رہی ہیں۔ حال ہی میں عراق کے شہر سامراء میں باغیوں کے ساتھ لڑائی میں مارے جانے والے متعدد ایرانی فوجیوں کو تہران اور دوسرے شہروں میں سپرد خاک کیا گیا ہےَ۔

ایرانی حکومت عراق میں براہ راست فوجی مداخلت کی خبروں کی تردید کرتی آ رہی ہے لیکن عراق میں پاسدران انقلاب کے اہلکاروں کے مارے جانے کی خیریں اور ان کی تدفین کی تصاویر ایران کا سرکاری میڈیا بھی دکھاتا رہا ہے جس سے حکومت کے دعوے کی خود بہ خود تردید ہو جاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں