یمنی شہری بین البر اعظمی سفر اونٹ پر کرے گا

سفر کا مقصد امن و محبت کا فروغ اور ماضی کو آواز دینا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

یمنی شہری نے اونٹ پر بین البراعظمی سفر کی تیاری کر لی ہے۔ احمد القاسمی آسٹریلیا، جنوبی امریکا اور یورپ کے اس منفرد سفر پر روانہ ہو کر امن اور برداشت کے پیغام کو بڑھانا چاہتا ہے۔

اس سفر کے دوران احمد القاسمی کے کارروان میں فوٹو گرافروں کے علاوہ مختلف زبانوں کے جاننے والے کئی ترجمان بھی شامل ہوں گے۔ تاکہ القاسمی کے سفر کے اہداف اور مقاصد سے ہر ملک کے لوگوں کو آگاہ کر سکیں۔

القاسمی اسی سال ماہ اکتوبر میں آسٹریلیا کے لیے اپنے سفر کا آغاز کرتے ہوئے روانہ ہو گا، جنوبی امریکا میں وہ 2016 کے دوران محو سفر رہے گا جبکہ یورپی ممالک میں اس کے کارروان کی آمد 2017 میں ہو سکے گی۔

القاسمی نےعالمی سفر کے اپنے منفرد خواب کی تعبیر کے اونٹ پر سفر کرنا پسند کیا ہے تاکہ امن ، محبت اور انسانیت کے لیے سوچنے والوں کے لیے خوابوں کا ایک نیا باب کھول سکے۔''

احمد القاسمی نے کہا '' اونٹوں پر سوار ہو کر دنیا کے چھوٹے بڑے شہروں سے گذرنا پرانے وقتوں کی یادیں تازہ کرنے والی بات ہو گی ور اسے اس سے ماضی میں جھانکنے کا ایک موقع بھی ملے گا۔''

القاسمی اس سے پہلے بھی اونٹوں پر سفر کے اپنے شوق کو آگے بڑھاتے ہوئے 1999 سے مسلسل افریقی ممالک، مشرق وسطی اور ایشیا کے سفروں کا اہتمام کر چکا ہے۔ یہ منفرد قسم کا سفر اس نے سولہ مختلف اونٹوں پر کیا ہے، جن میں سے چار اونٹ اسے بطور تحفہ ملے ہیں۔

اس شوق کو پورا کرنے کے لیے اخراجات اٹھانے کے لیے القاسمی اپنی جائیداد اور زیر ملکیت دوسری قیمتی اشیاء کو فروخت کرتا رہا ہے تاکہ منفرد قسم کی مہم جوئی کا بھر پور مزہ لے سکے۔

القاسمی کا کہنا ہے '' اس منفرد اور مشکل سفر میں مجھے خود کو سمجھنے کا موقع ملا ، دوسروں کو جاننے کا موقع ملا اور ان کی روایات و اقدار سے آگاہی ہوئی، مجھے یہ ادراک ملا کہ سخی کیسے ہونا چاہیے اور بردباری کس طرح پیدا کی جانی چاہیے۔''

واضح رہے القاسمی یمنی فوج میں ملازمت بھی کر تا رہا ہے جبکہ فٹ بال کھیلنا اس کا مشغلہ رہا ہے۔ احمد القاسمی کو اس بات کی بھی خوشی ہے کہ اس طرح کے سفر کے ذریعے وہ دوسروں کو اپنے قومی ورثے سے متعارف کرا سکتا ہے۔ اس کے مطابق اس مہم جوئیانہ سفر سے اسے کامیابیاں ملی ہیں۔

اپنے سفری شوق کی تکمیل کے بعد القاسمی کتاب لکھنے اور تجربات کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے اپنے لیکچرز کی سیریز کا بندو بست بھی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

واضح رہے 1977ء میں ایک اہسی ہی کامیاب کاوش پہلے بھی ہو چکی ہے جس میں ایک خاتون روپن ڈیوڈسن نے اونٹ پر سوار ہر آسٹریلیا کے 1700 میل صحرا کو عبور کیا تھا۔ اس سفر میں خاتون روپن ڈیوڈسن کے ساتھ اس کےاونٹوں کے علاوہ ایک کتا اور ایک فوٹو گرافر موجود تھا۔ جب روپن ڈیوڈسن اپنی منزل پر پہنچی تو اس وقت محو سفر تمام ساتھی موجود تھے مگر اس کتے کے سوا۔ روبن ڈیوڈسن اپنے آپ کو ایک کامباب لکھاری کے طور پر بھی منوا چکی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں