.

داعش نواز سعودی ڈاکٹر کی تصویر نے بھانڈہ پھوڑ دیا

خنجر لہرا کر مخالفین کی گردنیں اڑانے کا اشارہ دیا گیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ایک جواں سال ڈاکٹر فیصل بن شامان العنزی کے دولت اسلامی عراق وشام "داعش" میں شمولیت اور عراق کے محاذ پر مارے جانے کی خبروں کے جلو میں اس کی ایک نئی تصویر منظر عام پر آئی ہے جس میں اسے خنجر لہراتے دکھایا گیا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ فیصل العنزی صرف زخمیوں کے علاج کے لیے نہیں بلکہ باقاعدہ جنگ میں حصہ لینے کے لیے"داعش" میں شامل ہوا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ڈاکٹر فیصل شامان العنزی کی تازہ تصویر اس کی زندگی کے آخری ایام میں عراق کے شہر موصل میں لی گئی تھی، جس میں اسے ہاتھ میں ایک خنجر پکڑے دکھایا گیا ہے۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ وہ مخالفین کے سر قلم کرنے میں تنظیم کے دوسرے عناصر کے ساتھ شامل رہا ہے یا کم سے کم مخالفین کی گردنیں مارنے کا حامی تھا۔

گو کہ مقتول کے اہل خانہ نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ العنزی داعش میں جنگی مقاصد کے لیے شامل ہوا تھا۔ خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ العنزی صرف زخمیوں اور مریضوں کے علاج معالجے کی خدمات انجام دے رہا تھا۔ اس کا جنگ سے کوئی تعلق نہیں۔

خیال رہے کہ ڈاکٹر فیصل بن شامان العنزی گیارہ جولائی بروز جمعہ موصل میں داعش کے ایک ٹھکانے پر عراقی فورسز کے ایک فضائی حملے میں مارا گیا تھا۔ اس کی موت کے بارے میں دو الگ الگ رپورٹس بھی ہیں۔ ایک اطلاع یہ ہے کہ وہ نوری المالکی کی فورسز کے ساتھ براہ راست جھڑپ میں مارا گیا جب کہ دوسری اطلاع کے مطابق اس نے خود کش حملہ کیا، تاہم اس کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ العنزی کی موت داعش کے ایک میڈیکل سینٹر میں مریضوں کے علاج کے دوران اس وقت ہوئی جب نوری المالکی کی فضائیہ نے داعش کے اسپتال پربمباری کردی تھی۔

گذشتہ ہفتے مقتول کے بھائی محمد بن شامان العنزی نے"العربیہ" سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈاکٹرالعنزی داعش میں صرف طبی خدمات انجام دے رہا تھا۔ جب محمد بن شامان سےپوچھا گیا کہ آیا ڈاکٹر العنزی نے اسلحہ کیوں اٹھا رکھا تھا تو اس کا کہنا تھا کہ وہ میدان جنگ میں تھا اور محاذ جنگ میں اپنے دفاع کے لیے ہر شخص کو اپنے پاس اسلحہ رکھنا پڑتا ہے۔