.

عراق کی کاروباری شخصیات کو شامی تیل کی فروخت

داعش کے جنگجو مقامی شامیوں کو بھی ارزاں نرخوں پر تیل فروخت کررہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دولت اسلامی (داعش) سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے اپنے زیر قبضہ شام کے کنووں سے تیل اور مائع گیس کی پیداوار کو سرحد پار عراق کی کاروباری شخصیات کو فروخت کرنا شروع کردیا ہے۔

داعش کے جنگجوؤں نے شام کے مشرقی صوبے دیر الزور سمیت بڑے علاقے پر قبضہ کررکھا ہے۔اس کے علاوہ عراق کے پانچ صوبوں سے سرکاری سکیورٹی فورسز کو نکال باہر کر نے کے بعد وہاں اپنی عمل داری قائم کرلی ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ گذشتہ چند روز سے عراق کی نمبر پلیٹوں والے ٹرک دیرالزور میں واقع تیل کے کنووں پر آرہے ہیں اور یہاں سے ان پر تیل لاد کر انھیں مغربی عراق کی جانب بھیجا جارہا ہے۔

آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ یہ ٹرک عراق کی کاروباری شخصیات کے ملکیتی ہیں اور وہ داعش کے کنٹرول میں کنووں سے تیل کی خریداری کے لیے آرہے ہیں۔آبزرویٹری کے ڈائر یکٹر رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ عراقی کاروباری شخصیات کو بیس سے چالیس ڈالرز فی بیرل کے حساب سے تیل فروخت کیا جارہا ہے۔

داعش کے جنگجو اپنے زیر نگیں علاقے میں رہنے والے شامیوں کو بھی ارزں نرخوں پر بارہ سے اٹھارہ ڈالر تک فی بیرل تیل فروخت کررہے ہیں تاکہ ان کی حمایت حاصل کی جاسکے۔واضح رہے کہ اس وقت عالمی مارکیٹ میں تیل کی فی بیرل قیمت ایک سو ڈالرز سے زیادہ ہے۔شامی حکام کا کہنا ہے کہ مارچ 2011ء میں ملک میں خانہ جنگی چھڑنے کے بعد تیل کی پیداوار 96 فی صد تک کم ہوچکی ہے۔

دولت اسلامی (سابقہ دولت اسلامی عراق وشام) نے شام میں القاعدہ سے وابستہ گروپ النصرۃ محاذ سے جولائی کے اوائل میں دیر الزور میں واقع العمرآئیل فیلڈ کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔النصرۃ محاذ نے نومبر میں شامی فوج سے لڑائی کے بعد اس آئیل فیلڈ پر قبضہ کیا تھا۔محاذ اس سے دس ہزار بیرل یومیہ تیل نکال رہا تھا جبکہ اس کی یومیہ پیدواری صلاحیت پچھتر ہزار بیرل ہے۔

واضح رہے کہ شام تیل پیدا کرنے والا کوئی بڑا ملک نہیں ہے اور اس نے 2011ء کے بعد سے تیل برآمد نہیں کیا ہے۔تب امریکا اور مغرب نے صدر بشارالاسد کے خلاف دباؤ بڑھانے کے لیے شام پر پابندیاں عاید کردی تھیں۔ان پابندیوں سے قبل شام تین لاکھ ستر ہزار بیرل یومیہ تیل برآمد کررہا تھا اور اس میں سے زیادہ تر تیل یورپ کو بھیجا جاتا تھا۔