.

داعش کی سرکوبی: سُنی قبائل کو وسائل فراہمی کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے شدت پسند تنظیم دولت اسلامی عراق وشام 'داعش' کی سرکوبی کے لیے سُنی قبائل کو استعمال کرتے ہوئے انہیں اسلحہ فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق وزیر اعظم نوری المالکی نے الانبار، کرکوک، صلاح الدین اور موصل شہروں سے تعلق رکھنے والے قبائلی عمائدین سے ملاقات میں انہیں یقین دلایا کہ ان کی حکومت 'داعش' کو شکست دینے کے لیے سنی مکتب فکر کے قبائل کو اسلحہ اور دیگر جنگی سازو سامان فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم اور قبائل کو دہشت گردوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے حکومت کا ساتھ دینا چاہیے۔ عوام داعش اور دیگر دہشت گرد گروپوں کو شکست دینے کے لیے خود بھی میدان میں اتریں۔

وزیر اعظم المالکی کا کہنا تھا کہ قبائل کو اسلحہ اور دفاعی ساز و سامان کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ حکومت قبائلی رہ نماؤں کو اپنے اپنے علاقوں کے دفاع کے لیے ہر ممکن وسائل مہیا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ الانبار، صلاح الدین، بصرہ، بغداد اور دیگر اضلاع میں باغیوں کے خلاف لڑنے والے جنگجو قوم کا سرمایہ ہیں جو فوج کے ساتھ مل کر دفاع وطن کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔

اس موقع پر قبائلی رہنماوں نے بھی دہشت گردوں کامقابلہ کرنے کے لیے قبائلی نوجوانوں کو اسلحہ اور جنگی تربیت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

خیال رہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے موصل شہر پر مکمل جبکہ کرکوک، دیالی، الانبار اور صلاح الدین شہروں کے مختلف حصوں پر قبضہ جما رکھا ہے۔