.

شام فضائیہ کی بمباری سے چھ بچے جاں بحق

تنازع نے 9000 بچوں سمیت 170٫000 کی جان لے لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی شامی آبزرویٹری کے مطابق ملک کے شمالی صوبے حلب میں ایک گائوں پر شامی فضائیہ کی بمباری سے ایک ہی خاندان کے چھ بچے مارے گئے۔

آبزرویٹری نے مقامی باشندوں کے حوالے سے بتایا کہ وحشیہ کے علاقے میں مسلم خاندان کے گھر پر ہونے والے اس حملے میں تین بچے اور تین ہی بچیاں جاں بحق ہوئیں۔

یہ گائوں حلب میں باغیوں کے زیر تسلط علاقے میں واقع ہے اسی لئے گذشتہ برس سے اس پر مسلسل فضائی حملے کئے جا رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی انجمنیں ان فضائی حملوں پر شامی حکومت کو کئی بار تنقید کا نشانہ بنا چکی ہیں کیونکہ ان کے بقول حکومت باغی ٹھکانوں اور شہری علاقوں میں تمیز کرنے میں ناکام رہتی ہے۔

اس سے پہلے حماہ صوبے کے وسطی علاقے میں بھی منگل کی شام کئے جانے والے فضائی حملے میں 15 سالہ لڑکا جبکہ ادلب صوبے میں بھی توپخانے کی بمباری کے نتیجے میں ایک سات سالہ لڑکی ہلاک ہو گئی تھی۔

ادھر دولت اسلامی عراق و شام [داعش] کے زیر انتظام مشرقی صوبے دیر الزور میں شامی حکومت کی ایک کارروائی میں ایک چھ سالہ بچی ہلاک ہو گئی۔

آبزرویٹری کے مطابق شام کی خانہ جنگی کے دوران 170٫000 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں جن میں 9000 بچے بھی شامل تھے۔ اس جنگ کی وجہ سے ملک کی آدھی آبادی گھروں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔