.

السیسی:غزہ میں جنگ بندی کی کوششوں کا دفاع

مصر نے فلسطینی نصب العین کے لیے ایک لاکھ جانوں کا نذرانہ دیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے غزہ کی پٹی میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے لیے اپنی ثالثی کی کوششوں کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی حکومت 8 جولائی کو اسرائیلی حملے کے آغاز سے قبل ہی اس کو روکنے کے لیے کوشاں رہی تھی۔

عبدالفتاح السیسی بدھ کو 1952ء میں مصر میں بادشاہت کے خاتمے اور فوج کے اقتدار سنبھالنے کی سالگرہ کے موقع پر ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ''مصر نے فلسطینی نصب العین اور فلسطینیوں کے لیے ایک لاکھ شہداء کا نذرانہ دیا ہے''۔وہ مصر کی 1948ء اور 1973ء میں اسرائیل کے ساتھ جنگوں کا حوالہ دے رہے تھے۔

انھوں نے کہا:''ان قربانیوں کے ہوتے ہوئے کسی کے لیے یہ مشکل ہے کہ وہ یک شخصی جہاز پر سوار ہوجائے اور فلسطینی بھائیوں اور عرب خطے کے لیے ہمارے کردار کو نظرانداز کردے''۔

انھوں نے جنگ بندی کے لیے اپنی تجویز کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس سے امن قائم ہونے کی صورت میں اسرائیل کی جانب سے گذشتہ آٹھ سال سے جاری غزہ کی ناکا بندی کے خاتمے کے لیے حماس کا بنیادی مطالبہ پورا ہوگا۔

مصری صدر نے کہا:'' ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ اس وقت غزہ کی پٹی کے مکین جس صورت حال سے دوچار ہیں،اس کا خاتمہ ہو''۔وہ مصر کی تجویز کا ذکر کررہے تھے جس میں حتمی سمجھوتے کے لیے بات چیت سے قبل فریقین سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) اس مصری تجویز کو مسترد کرچکی ہے اور اس کا اصرار ہے کہ جنگ بندی سے قبل جامع سمجھوتا ہونا چاہیے۔اس نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ مصر غزہ کی پٹی کے ساتھ واحد سرحدی گذرگاہ رفح کو کھولے اور اسرائیل علاقے کا مکمل طور پر محاصرہ ختم کرے۔

حماس کی دلیل ہے کہ اگر جامع سمجھوتے سے قبل جنگ بندی ہوجاتی ہے تو پھر اسرائیل غزہ کا محاصرہ اپنی شرائط پر ختم کرے گا اور اس کے لیے وہ مختلف جواز پیش کرسکتا ہے۔

واضح رہے کہ جولائی 2013ء میں سابق آرمی چیف اور اب منتخب صدر عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے مصر کے حماس کے ساتھ تعلقات خوش گوار نہیں رہے ہیں۔اس دوران مصر نے غزہ کی پٹی کا گھیرا تنگ کرنے میں اسرائیل کی مدد کی ہے،اس نے رفح بارڈر کراسنگ کو بند کردیا تھا اور غزہ کی پٹی اور جزیرہ نما سینا کے درمیان سرحد پر موجود زیرزمین سرنگوں کے خاتمے کے لیے مصری سکیورٹی فورسز نے کریک ڈاؤن کیا تھا۔

حماس اور اس کی مادر جماعت اخوان المسلمون کے خلاف کریک ڈاؤن کی وجہ سے مصر کے قطر اور ترکی کے ساتھ تعلقات بھی کشیدہ ہوچکے ہیں۔یہ دونوں ممالک اخوان المسلمون اور حماس کے حامی ہیں اور انھوں نے غزہ تنازعے پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے موقف کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے سیدھے سبھاؤ عبدالفتاح السیسی کو ''آمر'' قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ جنگ بندی کی ثالثی کے لیے ان پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا ہے جبکہ حماس نے جنگ بندی کے لیے مذاکرات میں ترکی اور قطر کے کردار کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ دونوں ممالک مجوزہ ثالثی بات چیت کا حصہ ہونے چاہئیں۔واضح رہے کہ برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی نے 2012ء میں غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی آٹھ روزہ جارحیت کے خاتمے کے لیے جنگ بندی کی ثالثی کی تھی اور اس کو حماس نے اپنی فتح گردانا تھا۔