.

غزہ: اسرائیلی بمباری میں 'اونروا' کا اسکول تباہ

نہتے شہریوں کا سفاکانہ قتل عام بدستور جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی شہر غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ صہیونی فوج کے ایک طیارے نے غزہ کے مرکزی علاقے خان یونس میں اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی 'اونروا' کے ایک اسکول پر بمباری کی جس کے نتیجے میں اسکول کی عمارت ملبے کا ڈھیر بن گئی۔

جنوبی غزہ میں منگل کی شام اسرائیل کے ایف 16 جنگی طیارے نے جمہوری محاذ برائے آزادی فلسطین کے رہ نما رائد ابو مغصیب کی رہائش پر میزائل داغا جس کے نتیجے میں ابو مغصیب اور دو دیگر افراد موقع پر ہی شہید ہو گئے۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کے دیگر علاقوں پر بھی مسلسل زمینی اور فضائی حملے جاری رہے جن میں درجنوں عام شہریوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔ صہیونی فوج کی جارحیت کا نشانہ بننے والوں میں بیشتر بچے، خواتین اور معمر افراد شامل ہیں۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق بیت حانون میں اسرائیلی فوج کے ایک میزائل حملے میں سہا نامی حاملہ خاتون اپنی چار سالہ بچی سمیت شہید ہو گئی۔ رفح کے مقام پر اسرائیلی فوج کی توپخانے سے کی گئی شیلنگ میں دو عمر رسیدہ بھائی مارے گئے۔ شہید آل ابو عدوان قبیلے کے دو سگے بھائیوں میں ایک کی عمر 85 اور دوسرے کی 75 برس بتائی گئی ہے۔ دونوں گھر پر توپ کا گولہ گرنے سے شہید ہوئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آٹھ جولائی سے غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائیوں میں اب تک 600 سے زائد شہری شہید اور 4000 زخمی ہو چکے ہیں۔

ادھر مسلسل بمباری کے بعد غزہ کی پٹی کے سرحدی علاقوں سے شہریوں کی نقل مکانی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ 'اونروا' کے مطابق صہیونی بمباری سے بے گھر ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ الشجاعیہ، بیت لاھیا، الزیتون کالونی اور خان یونس سے شہریوں کے انخلاء کا عمل بدستور جاری ہے۔

عالمی ادارے کی ریلیف ایجنسی کا کہنا ہے کہ نقل مکانی کرنے والے شہریوں کو ہمہ نوع مشکلات کا سامنا ہے۔ مہاجرین کو پانی اور خورک کی شدید قلت ہے اور اسرائیل کے مسلسل فضائی حملوں نے پناہ گزینوں کے مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔