موصل کے قدیمی مسیحیوں کی نقل مکانی، سامان چھن گیا

موصل کے آس پاس کی بستیوں کے مسیحیوں میں بھی خوف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراقی مسیحیوں نے شمالی شہر موصل میں ذمی بن کر رہنے یا مذہب کی تبدیلی قبول کرنے کے بجائے موصل سے نقل مکانی کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔ موصل کے قدیمی مسیحی باشندوں کو داعش نے ذمی بننے یا لڑائی کے لیے تیار ہونے کا انتباہ کیا تھا۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شہر چھوڑ کر جانے والے مسیحیوں کی ملکیتی اشیاء بڑی مقدا میں مسلح افراد نے چرالی ہیں۔ قدیمی مسیحی باشندوں نے مشرق وسطی کے اس مسلم ملک میں رہنے کے لیے لمبی جدو جہد کی ہے۔

لیکن داعش کے قبضے کے بعد زیادہ تر موصل کو چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ انہیں خدشہ تھا کہ شام اور بعض دوسرے ملکوں سے تعلق رکھنے والے ان عسکریت پسندوں کے قبضے کے بعد ان کی زندگی کیسے گذرے گی۔ واضح رہے داعش نے دس جون کو موصل پر قبضہ کیا تھا۔

داعش نے پچھلے ہفتے کے روز ان مسیحیوں کو مذہب تبدیل کرنے کے لیے حتمی انتباہ کیا تھا۔ اس صورت حال میں نقل مکانی کرنے والے زید اسحاق نامی 27 سالہ مسیحی اور اس کے خاندان نے کرد علاقے کی طرف نقل مکانی کا فیصلہ کیا ہے۔

زید اسحاق نے کہا '' ہمیں ایسے علاقے سے گذرنا تھا جہاں راستے میں انہوں نے چیک پوسٹ قائم کر رکھی ہے، ہمیں چیک پوسٹ کر روک کر گاڑی سے اترنے کے لیے کہا گیا ، ہم گاڑی سے نیچے اترے تووہ گاڑی سمیت ہماری ہر چیز لے گئے۔ ''

موصل سے تعلق رکھنے والے ایسے بہت سے خاندانوں کو نقل مکانی کے بعد شہر اربیل کے گرجا گھر میں پناہ لینا پڑی ہے۔ لیکن ہو سکتا ہے انہیں کیمپ میں رہنے پر مجبور کر دیا جائے۔ اسحاق اپنے اور اپنے خاندان کے مستقبل کے بارے میں سخت بے یقینی کا شکار ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق اتوار کے روز تک موصل سے چار سو خاندان نقل مکانی کر چکے تھے، شہر میں صرف وہی لوگ رہ گئے ہیں جو لوگ سفر کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ واضح رہے اتوار کے روز عسکریت پسندوں نے 1800 سال پرانا گرجا گھر بھی اپنے قبضے میں کر لیا تھا۔

موصل کے ارد گرد کی آبادیوں میں موجود مسیحی بھی خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں کہ عسکریت پسند یہاں سے زیادہ فاصلے پر نہیں ہیں۔ نقل مکانی کرنے والے ایک اور خاندان نے کہا انہیں عسکریت پسندوں نے کہا آپ جا تو رہے ہیں لیکن اب واپس کبھی نہیں آ سکیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں