.

جنگ بندی: پہلےغزہ کا محاصرہ ختم کریں، حماس کی شرط

ہم ان کے فوجی، وہ ہمارے شہری مار رہے ہیں: خالد مشعل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حماس کے سربراہ خالد مشعل نے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے لیے غزہ کی پٹی کا محاصرہ ختم کرنے کی شرط کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ناکا بندی ختم ہونے سے قبل سیزفائر نہیں ہوگا۔

خالد مشعل نے بدھ کی شب ایک نشری تقریر میں غزہ کی پٹی میں فلسطینی مزاحمت کاروں کی اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں دلیری اور بہادری کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ فلسطینی اسرائیلی فوج سے زیادہ مضبوط ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ''فلسطینی جنگجوؤں نے اسرائیل کو حیران کردیا ہے اور اس کو جنگ کی اخلاقیات بھی بھول گئی ہیں۔ہم ان کے فوجیوں کو ہلاک کررہے ہیں اور وہ ہمارے شہریوں کو شہید کررہے ہیں''۔

ان کے اس بیان سے قبل فلسطینی اتھارٹی کے اعلیٰ مذاکرات کار صائب عریقات نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان آیندہ چند گھنٹوں میں یا پھر جمعرات تک جنگ بندی ہوجائے گی۔

اسرائیلی ناکا بندی

تمام فلسطینی دھڑے اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی کے برّی ،بحری اور فضائی محاصرے کو ختم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔گذشتہ آٹھ سال سے جاری اس ناکا بندی کے نتیجے میں لاکھوں فلسطینی دنیا کی اس بڑی کھلی جیل میں مقیّد ہوکررہ گئے ہیں اور وہ اسرائیلی فوج کی 8 جولائی کو مسلط کردہ جنگ سے قبل ہی گوناگوں مسائل سے دوچار تھے۔

سعودی عرب کے معروف سیاسی تجزیہ کار اور العرب ٹی وی کے ایڈیٹر انچیف عدنان خشوجی نے العربیہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''مصر کی جنگ بندی کی تجویز میں ناکا بندی کے خاتمے کی کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔اس میں ''جنگ بندی پہلے اور بات چیت بعد میں'' پر زوردیا گیا ہے جبکہ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ وہ ناکا بندی کے خاتمے کے بغیر جنگ بندی کو قبول نہیں کرسکتے ہیں اور ہمیں فلسطینیوں کے مطالبے پر کان دھرنا ہوں گے''۔

انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ''غزہ میں ناکا بندی کا خاتمہ ایک بڑا ایشو ہے اور سعودی عرب یقینی طور پر جنگ بندی کے کسی بھی سمجھوتے میں ناکا بندی کے خاتمے کی حمایت کرے گا''۔

مصر نے گذشتہ ہفتے حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کی تجویز میں کہا تھا کہ فریقین فوری طور پر لڑائی روک دیں اور اس کے بعد جنگ بندی سمجھوتے کے لیے بات چیت کی جائے۔مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے ایک نشری تقریر میں اپنی اس تجویز کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے امن قائم ہونے کی صورت میں اسرائیل کی جانب سے گذشتہ آٹھ سال سے جاری غزہ کی ناکا بندی کے خاتمے کے لیے حماس کا بنیادی مطالبہ پورا ہوگا۔

مصری صدر نے کہا:'' ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ اس وقت غزہ کی پٹی کے مکین جس صورت حال سے دوچار ہیں،اس کا خاتمہ ہو''۔اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) اس مصری تجویز کو پہلے ہی مسترد کرچکی ہے اور اس کا اصرار ہے کہ جنگ بندی سے قبل جامع سمجھوتا ہونا چاہیے جس کے تحت اسرائیل غزہ کی پٹی کا محاصرہ مکمل طور پر ختم کرے اور مصر بھی رفح بارڈر کراسنگ کو کھول دے۔فلسطینی صدر محمود عباس نے بھی حماس کی ان شرائط کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔