.

غزہ پر جنگ، مصر کی سیاسی حیثیت کمزور ہو گئی

السیسی رفح کی راہداری مشروط طور پر کھول سکتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جغرافیائی اور تاریخی اعتبار سے بہتر پوزیشن کا حامل رہنے والا مصر جلد اپنی اس پوزیشن کے باعث موثر اور اہم رہنے کا مقام کھو دینے کی تبدیلی سے ہمکنار ہونے جا رہا ہے۔ اس کی بنیاد پچھلے ہفتے حماس کی طرف سے جنگ بندی کی مصری تجویز کو مسترد کیے جانے سے رکھ دی گئی ہے۔

حماس نے اس کے باوجود جنگ بندی کی مصری تجویز قبول کرنے سے انکار کیا ہے کہ اب تک 600 سے زائد فلسطینی شہری اسرائیلی بمباری سے شہید ہو چکے ہیں اور غزہ پر اسرائیلی حملوں سے ایک انسانی المیہ جنم لے چکا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور حماس کے سربراہ خالد مشعل نے قطر میں اپنی غیر معمولی ملاقات کے دوران بھی اس صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے ۔

دونوں کے درمیان جہاں جلد جنگ بندی پر اتفاق کیا وہیں رواِئتی معاہدہ باز مصر بالعموم اور اس کے فوج سے آنے والے صدر عبدالفتاح السیسی کی علاقے میں بالادستی اس سے کمزور ہو گیا ہے کہ ان کے درمیان مصر کے علاوہ جنگ بندی کی سوچ سامنے آئی۔

حماس کے اہم ترین مطالبے کہ غزہ کی راہداریاں کھولی جائیں کی زد اسرائیل کے ساتھ ساتھ مصر پر بھی پڑتی ہے۔ ہو سکتا ہے مصر اس شرط کے ساتھ رفح کی راہداری کھونے پر آمادہ ہو جائے کہ فلسطینی اتھارٹی کے پولیس اہلکار راہداری پر تعینات کیے جائیں گے۔

اس سے ملتی جلتی خواہش اسرائیل کی بھی ہے کہ غزہ میں اتھارٹی کے سکیورٹی اہلکاروں کو غزہ میں دیکھنا چاہتا ہے۔ بلا شبہ فتح کے ساتھ ماہ اپریل میں معادہ کرنے والی حماس کے لیے بھی مشکل ہو گا کہ اس پر اعتراض کر سکے کہ اسے ابھی اپریل معاہدے کی توثیق کرنا ہے۔ بہرحال فلسطینی اتھارٹی میں فتح کا اثر و رسوخ حماس سے زیادہ ہے۔

آج سے تقریبا دوسال پہلے اسرائیل اور حماس کے درمیان اسی نوعیت کی صورت حال پیدا ہوئی تو اس وقت مصر میں پہلے باضابطہ منتخب صدر محمد مرسی کی حکومت تھی۔ مرسی کی زیر قیادت مصر نے ایک موثر مفاہمتی کردار ادا کیا تھا۔

لیکن اب مصر میں عبدالفتاح السیی کی حکمرانی کا دور ہے جو اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دے چکے ہیں اور اپنے ہی ملک کے اندر'' دہشت گردی کے خلاف جنگ '' میں مصروف ہیں۔ دوسری جانب حماس اخوان المسلمون کی اتحادی ہے۔ بعض لوگوں کے نزدیک جنگ بندی کی مصری تجویز کو رد کیے جانے ایک اہم وجہ یہی چیز بنی ہے۔

تاہم مشرق وسطی کے بارے میں اہم تجزیہ کار ڈاکٹر میکس ریب مین کا '' العربیہ'' سے بات کرتے ہوئے کہنا ہے '' مصر نے ابھی اس معاملے اپنی حیثیت مکمل طور پر نہیں کھوئی ہے۔ '' البتہ یہ اپنی جگہ درست ہے کہ السیسی کی زیر قیادت السیسی نے فوجی نکتہ نگاہ سے اپنی پوزیشن کو سکیڑ لیا ہے۔

خصوصا رفح کی راہداری بند کرنے کے بعد زیر زمین سرنگوں کو اسرائیل سے تعاون کرتے ہوئے تباہ کر نے کے بعد معاہدات کرانے اور جنگ بندی پر آمادہ کر لینے والے رہنما، یا ملک کا کردار عام طور پر دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول ہونا چاہیے لیکن ڈاکٹر ریب مین کے مطابق مصر کم از کم اس وقت ایسا تشخص نہیں رکھتا ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی میں جغرافیائی امور کا ماہر جسٹن ڈارگن کا کہنا ہے کہ '' اس دوران جزیرہ نما سیناء میں عسکریت پسندوں کی کارروائیاں مصر کے لیے ایک الگ تشویش کے سبب کے طور پر موجود ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے اسرائیل اور مصر باہم ایک دوسرے کو ساتھ ملا کر چلنے کو بھی تیار نہیں ہیں۔ ''

کئی دہائیوں سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کوششوں کی ناکامی کی وجہ سے بھی بہت سارے ممالک جنگ بندی یا مفاہمت کرانے کے لیے آگے آنے کو تیار نہیں ہوتے ہیں۔

تاہم اس صورت حال میں قطر کا ایک ثالث کے طور پر سامنے آنا نئی بات ہے۔ مصری قیادت اخوان المسلمون کے حامی سمجھے جانے دوحا کے لیے یہ کردار مصر کو زیادہ مرغوب نہیں ہے لیکن اسے یہ اس لیے برداشت کرنا پڑے گا کہ حماس مصر کے کرائے گئے معاہدے پر دستخط کرنے کو تیار نہیں۔

قطر ایران اور ترکی کے ہمراہ اب مشرق وسطی میں اسلام پسند طاقت کے محور کے ساتھ موجود مغرب نواز مصر، سعودی عرب اردن اور متحدہ عرب امارات کے مقابل واضح فرق لیے ہوئے ہے۔

پروفیسر ڈارگن کا کہنا ہے کہ ''حماس کا حامی ہونے کے باعث یہ منطقی بات ہو گی کہ حماس قطر کو کسی حتمی معاہدے یا جنگ بندی کے لیے مزید بات چیت کے لیے موجود دیکھنا چاہے۔ ''

ڈارگن کا یہ بھی کہنا ہے '' امکان ہے کہ مصر کے ساتھ قطر اور امریکا مسئلے کا حل تلاش کنے والے اہم فریق کے طور پر اپنا کردار ادا کریں۔''

واضح رہے اپنے سفارتی وزن کی وجہ سے قطر پہلے ہی مشرق وسطی میں اپنی نمایاں مگر پرخطر پوزیشن پر ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران مشرق وسطی کے ملکوں کے ساتھ اس کے معاملات میں فرق آیا ہے۔ مصر کے امور اس کا ایک اہم حوالہ ہیں۔

امریکا میں مقیم مشرق وسطی کے امور کے ماہر جوئیل بینن نے ''العربیہ '' سے اس بارے میں بات کرتے ہئے کہا '' لیکن اس معاملے ترکی کے کردار کو ماضی کے ٹریک ریکارڈ کے حوالے سے دیکھنا ہو گا جو زیادہ اچھا نہیں سمجھا جاتا ہے۔

ترکی اس سے پہلے شام اور اسرائیل کے درمیان معاملات کی بہتری کی کوشش کر چکا ہے لیکن امریکی تعاون نہ ملنے کے باعث ناکام رہا۔ اسرائیل نے بھی شام کے ساتھ امن معاہدے پر راضی نہ تھا کہ اس صورت میں گولان کی پہاڑیوں کی واپسی کا خطرہ ہو سکتا تھا۔ ''

بینن کے مطابق '' رجب طیب ایردوآن اور السیسی زیادہ مہارت بھی نہ دکھا سکیں گے۔ ترکی عراق اور ایران کے بارے میں رجحان بھی عرب اسرائیل امور میں اس کی صلاحیت کے آڑے ہے۔'' دوسری جانب ایردوآن نے السیسی کو حال ہی میں ظالم قرار دیا ہے۔ حتی کہ شمالی افریقہ کے اس ملک پر یہ الزام بھی لگایا ہے کہ یہ اسرائیل کے ساتھ ملکر حماس کو آوٹ کرنا چاہتا ہے۔

اسی اثناء میں فلسطین میں ایران کی اپنی دلچسپی بھی اہم ہے، خصوصا ایرانی انقلاب کے بعد سے۔ اگرچہ موجودہ حالات میں ایران ی اصل ترجیح اس کے جوہری معاہدے کی ہے اس لیے وہ اس میں سرگرمی دکھانے سے دور ہے ۔

تاہم ایک بات طے ہے کہ مصر اس سارے معاملے میں پہلے کی طرح موثر نہیں رہا۔ اس کی باوجود کہ نئے مصری صدر السیسی کی ذاتی اور عزت کا معاملہ بھی ہو گا کہ بطور مصری قائد انہیں شروع میں ہی غیر موثر ہونے کا تاثر برداشت کرنا پڑے۔