.

"نوری المالکی، ریاض اور بحرین دشمنوں کے سرپرست ہیں"

مفتی اعظم عراق کا العربیہ نیوز کا دورہ اور خصوصی انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے مفتی اعظم الشیخ رافع الرفاعی نے الزام عائد کیا ہے کہ سعودی عرب اور بحرین میں ہونے والی معاندانہ سرگرمیوں میں ملوث عناصر کو وزیر اعظم نوری المالکی اور ان کے 'نورتنوں' کی بھی مدد حاصل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عرب ممالک میں فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث عناصر کو ایرانی سپریم لیڈر سے معاونت ملتی ہے۔

العربیہ کے برادر ٹی وی 'الحدث' سے خصوصی انٹرویو میں مفتی اعظم عراق کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور بحرین میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب نوری المالکی اور ان کے حاشیہ نشینوں کے علم میں ہے لیکن وہ اس لیے خاموش ہیں کیونکہ وہ تخریب کاروں کی پشپناہی کر رہے ہیں۔

علامہ الرفاعی کا کہنا تھا کہ عراق میں سیاسی پیش رفت بانجھ پن کا شکار ہے، عراق کا دستور خود مریض اور مریضوں کا مرتب کردہ ہے، جو کسی کے لیے شفاء کا موجب نہیں بن سکتا۔

ایک سوال کے جواب مین الشیخ رافع الرفاعی نے کہا کہ عراق کا 60 فی صد رقبہ باغیوں کے قبضے میں ہے۔ اس وقت باغی ہی عراق کے اصل حکمران ہیں۔ عراق کے اہل سنت مسلک کے ارکان پارلیمنٹ صرف نوری المالکی کے تابع ہیں وہ اہل سنت کی نمائندگی نہیں کرتے۔

مفتی اعظم نے کہا کہ اہل سنت ہی عراق کا اصل سواد اعظم ہیں۔ سنی مسلک کے لوگوں کو کسی صورت مین اقلیت نہیں قرار دیا جا سکتا ہے۔

عراق میں ایرانی مداخلت سے متعلق سوال پر علامہ الرفاعی کا کہنا تھا کہ بدنام زمانہ پاسدارن انقلاب کی 28 تنظیمیں نوری المالکی کی حمایت اور عراق میں فرقہ واریت کے فروغ کے لیے لڑ رہی ہیں۔ یہ سب ملک کر سنیوں کا قتل عام کرتے ہیں۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے نو منتخب اسپیکر سلیم الجبوری پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ الجبوری کا تعلق ضلع دیالی ہے۔ ان کے اپنے شہر میں سنیوں کاٹے جا رہے ہیں لیکن وہ انہیں تحفظ دلانے میں ناکام رہے ہیں۔

عراقی مفتی اعظم نے اخوان المسلمون کی نمائندہ جماعت حزب اسلامی پر بھی شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اخوان بھی اب بلیک میلر بن چکے ہیں۔ ان کے ہاتھ بھی اہل سنت کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔