داعش کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات کا امکان

شامی انتہا پسند داعش میں شمولیت کو تیار ہیں: یو این حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق اور شام میں لڑنے والی عسکری تنظیم داعش سے وابستہ جنگجووں کو اقوام متحدہ کی اس فہرست میں شامل کیے جانے کا امکان ہے جن پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے شعبے میں جنگی جرائم کی تحقیقات سے متعلق سربراہ نے کہی ہے۔

برازیل سے تعلق رکھنے والے اس سربراہ پاولو پنہیرو نے کہا ''داعش کے خلاف جنگی جرائم کے الزام کے ثبوت جمع کرنا زیادہ آسان ہو گا کیونکہ میں داعش میں مضبوط کمان موجود ہے اور ہر حکم کمان کی طرف سے آتا ہے۔

اقوام متحدہ کے اس نمائندہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو داعش کے خلاف تحقیات کے بارے میں بریف کرتے ہوئے کہا ''داعش کے لوگ اس فہرست میں شامل ہونے کیلیے اچھے امیدوار ہو سکتے ہیں۔ ''

سلامتی کونسل کے ارکان کو بریفنگ کے بعد انہوں نے رپورٹر کو یقین دلایا ''ہم تمام اطراف کے جرائم میں ملوث افراد کے بارے میں معلومات جمع کر رہے ہیں، ان میں تمام غیر ریاستی عناصر اور داعش بھی شامل ہے۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا ''میں یہ کہنے کی پوزیشن میں نہیں کہ یہ فیصلہ کروں کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا عالمی کپ کون جیت رہا ہے، حقیقت یہ ہے کہ ہر گروہ اپنے انداز میں خوفناک کردار ادا کر رہا ہے۔''

واضح رہے داعش کے عسکریت پسندوں نے عراق میں کامیاب جارحیت کے بعد نےاپنی کارروائیوں کا دائرہ مزید پھیلانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ان پر اغواء اور قتل کے الزامات ہیں۔

اقوام متحدہ کے اس ذمہ دار نے کہا ''شام میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو داعش انتہا پسند اسلامی عسکریت پسندوں کے ساتھ شامل ہونے کے لیے تیار ہیں۔'' ان کے بقول داعش غیر ملکی عسکریت پسندوں نے کو شام کے شہری بنا رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں