.

الرقہ :جہادیوں کے حملے میں 50 شامی فوجی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دولت اسلامی عراق وشام (داعش) سے وابستہ جنگجوؤں نے شام کے شمالی صوبے الرقہ میں ایک حملے میں پچاس اسدی فوجیوں کو ہلاک کردیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے جمعہ کو ان شامی فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے اور اس مانیٹرنگ گروپ کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے ان پچاس شامی فوجیوں پر حملہ کیا تھا۔ان میں بعض کو لڑائی میں ہلاک کردیا تھا اور کچھ کو گرفتار کر لیا تھا۔انھیں بعد میں موت کی نیند سلا دیا ہے اور انھوں نے ان میں سے بیشتر کے سرقلم کردیے ہیں۔

داعش کے جنگجوؤں نے جھڑپ میں پچھہتر شامی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ شامی فوج کی سترھویں ڈویژن سے تعلق رکھنے والے ان فوجیوں کو ابوشارد کے علاقے سے پکڑا گیا تھا اور اس کے بعد ان کے سرقلم کردیے گئے ہیں۔

شامی حکومت نے الرقہ میں ان فوجیوں کی ہلاکت سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔داعش کے جنگجوؤں نے الرقہ کے بیشتر علاقے پر قبضہ کررکھا ہے لیکن اس کے باوجود شام کی تین ڈویژن فوج وہاں موجود ہے۔ آبزرویٹری کی اطلاع کے مطابق جمعہ کو سترھویں ڈویژن کو نئی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا ہے۔

داعش نے شام اور عراق کے بیشتر علاقے پر قبضہ کررکھا ہے اور اس نے گذشتہ ماہ اپنے زیرنگیں علاقوں میں خلافت کے قیام کا اعلان کیا تھا۔اب اس تنظیم سے وابستہ جنگجو شام کے مزید علاقے اپنے کنٹرول میں لانے کے لیے شامی فوج کے خلاف محاذ آراء ہیں جبکہ صدر بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے لیے برسرپیکار دوسرے باغی گروپ بھی اس کی کوئی زیادہ مزاحمت نہیں کررہے ہیں حالانکہ اس سال کے آغاز میں شام کے شمالی صوبوں میں داعش اور القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ کے درمیان خونریز جھڑپیں ہوئی تھیں جن میں سیکڑوں جنگجو مارے گئے تھے۔