.

حماس کا عارضی فائر بندی میں توسیع سے انکار

اسرائیل پر سات میزائل فائر، دو کا ہدف تل ابیب تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے غزہ میں عارضی جنگ بندی میں مزید چار گھنٹوں کی توسیع پر رضا مندی ظاہر کی ہے جبکہ حماس نے اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی عارضی مدت میں مزید چار گھنٹوں کی توسیع کو مسترد کرتے ہوئے اسرائیل پر سات میزائل داغے ہیں جن میں دو میزائلوں کا نشانہ دارلحکومت تل ابیب تھا۔

ہفتے کے روز موثر ہونے والی عارضی فائر بندی کے موقع پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں غزہ میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

اس سے قبل غزہ کی صورتِ حال پر غور کے لیے پیرس میں ہونے والے ایک مشاورتی اجلاس میں شریک سات ملکوں کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل اور 'حماس' سے جنگ بندی میں توسیع کی اپیل کی تھی۔

اجلاس میں امریکہ، برطانیہ، جرمنی، اٹلی، قطر، ترکی اور فرانس کے وزرائے خارجہ شریک تھے جنہوں نے فریقین سے مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات شروع کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

اسرائیل اور 'حماس' نے گزشتہ روز 12 گھنٹوں کے لیے لڑائی روکنے پر اتفاق کیا تھا تاکہ اسرائیلی محاصرے کا شکار غزہ کے عام شہریوں تک طبی امداد اور بنیادی ضرورت کی اشیا پہنچائی جا سکیں۔

ہفتے کو غزہ کے مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے جنگ بندی موثر ہوتے ہی غزہ میں لوگوں نے اپنے گھروں کو پہنچنے والے نقصانات کا اندازہ لگانے، اشیائے خور و نوش جمع کرنے اور ہلاک ہونے والے اپنے عزیز و اقارب کی لاشیں اکٹھی کرنے کے لیے بمباری کا نشانہ بننے والے علاقوں اور منہدم عمارتوں کا رخ کیا۔

غزہ کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے دوران کی جانے والے امدادی کارروائیوں کے دوران اسرائیلی بمباری کا نشانہ بننے والی عمارتوں کے ملبے سے 100 سے زائد لاشیں برآمد ہوئی ہیں جس کے بعد گزشتہ 19 روز سے جاری اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

غزہ کے 'شفا اسپتال' کے ڈائریکٹر نے بتایا ہے کہ ہفتے کو برآمد ہونے والی بیشتر لاشیں غزہ کے علاقوں بیتِ حانون، خان یونس اور شجاعیہ سے ملی ہیں۔

شجاعیہ غزہ کا مشرقی ضلع ہے جسے اسرائیل نے 'حماس' کا گڑھ قرار دیتے ہوئے وہاں گزشتہ ہفتے زمینی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ اس علاقے میں اسرائیلی فوجیوں کو فلسطینی مزاحمت کاروں کے ہاتھوں سخت مزاحمت کا سامنا ہے اور بیشتر اسرائیلی فوجی اسی علاقے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

فلسطینی حکام کے مطابق جنگ بندی موثر ہونے سے چند گھنٹے قبل اسرائیل نے غزہ کے بعض علاقوں پر شدید بمباری کی جس سے کئی عمارتیں منہدم اور ایک ہی خاندان کے 20 افراد سمیت درجنوں شہری شہید ہوئے۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے اطلاق سے قبل غزہ میں ہونے والی لڑائی میں اس کے مزید پانچ فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں جس کےبعد غزہ کے فلسطینی جنگجووں کے ساتھ زمینی لڑائی میں مرنے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 40 ہو گئی ہے۔

آٹھ جولائی سے جاری تصادم کے دوران فلسطینی جنگجووں کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ حملوں کے نتیجے میں دو اسرائیلی شہری اور تھائی لینڈ سے تعلق رکھنے والا ایک مزدور بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

غزہ پر جاری اسرائیلی حملوں کے باعث مشرقی یروشلم کے عرب اکثریتی علاقوں اور مغربی کنارے کی صورتِ حال سخت کشیدہ ہے جہاں اسرائیل کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر پر تشدد مظاہرے ہو رہے ہیں۔

جمعہ کو مغربی کنارے کے شہروں نابلس اور اریحا میں غزہ پر اسرائیلی بمباری کے خلاف احتجاج کرنے والے مشتعل مظاہرین پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے آٹھ فلسطینی شہید ہو گئے تھے۔