.

غزہ: باغ پر حملہ،8 بچوں سمیت 10 افراد شہید

فلسطینی مزاحمت کاروں کے حملے میں 4 صہیونی فوجی ہلاک ، 7 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ شہر کے مغرب میں واقع ایک عوامی باغ پر اسرائیلی فضائی حملے میں آٹھ کم سن بچوں سمیت دس افراد شہید اور چالیس زخمی ہوگئے ہیں جبکہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے حملے میں چار اسرائیلی فوجی ہلاک اور سات زخمی ہوگئے ہیں۔

العربیہ کے نمائندے کی اطلاع کے مطابق غزہ کی پٹی سے مغرب میں واقع اشکول میں ایک مارٹر بم کے حملے میں اسرائیلی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔یہ بم فلسطینی مزاحمت کاروں نے فائر کیا تھا۔حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز نے غزہ میں جھڑپوں کے دوران دس اسرائیلی فوجی ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

رائیٹرز نے مقامی لوگوں کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ سوموار کو غزہ شہر کے مغرب میں واقع الشاطی کیمپ میں ایک عوامی باغ پر اسرائیلی فوج کے فضائی حملے کے بعد دھماکا ہوا ہے۔دھماکے کے بعد باغ میں ہر طرف خون ہی خون نظر آرہا تھا۔عین اس وقت غزہ کے مرکزی شفا اسپتال میں بھی ایک اور دھماکا ہوا تھا لیکن اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اسرائیل نے ان دونوں فضائی حملوں کی ذمے داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ دھماکے فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے فائر کیے گئے میزائلوں کے پھٹنے سے ہوئے ہیں۔اسرائیل کے ایک فوجی عہدے دار کا کہناہے کہ گذشتہ تین ہفتوں کے دوران فلسطینی مزاحمت کاروں کے فائر کیے گئے قریباً دوسو میزائل غزہ کی پٹی کے اندر ہی گرے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے ان دونوں حملوں سے تو انکار کیا ہے کہ لیکن اس نے غزہ کے شمال میں جبالیا مہاجر کیمپ میں ایک مکان پر ٹینک پر گولہ داغا ہے جس کے نتیجے میں ایک چارسالہ بچی شہید ہوگئی۔اسی علاقے میں اسرائیلی گولہ باری سے ایک اور فلسطینی شہید ہوگیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے سوموار کو حماس کی جانب سے چوبیس گھنٹے کے لیے جنگ بندی کے اعلان کے باوجود عید الفطر کے موقع پر حملے جاری رکھے ہیں۔درایں اثناء امریکا اور بڑے یورپی ممالک نے حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے لیے دباؤ بڑھانے پر زوردیا ہے۔

فرانسیسی ایوان صدر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ''امریکا،فرانس ،جرمنی ،اٹلی اور برطانیہ کے لیڈروں نے ٹیلی فون پر حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کرانے سے متعلق تبادلہ خیال کیا ہے اور اس سلسلے میں اپنی کوششیں تیز کرنے سے اتفاق کیا ہے۔

درایں اثناء اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے کہا ہے کہ غزہ میں تنازعے کے فریقوں نے ان کی درخواست پر مزید چوبیس گھنٹے کے لیے انسانی بنیاد پر جنگ بندی میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے لیکن ابھی ان کے درمیان اس کے نفاذ کے وقت پر اتفاق نہیں ہوا ہے۔قبل ازیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی حماس اور اسرائیل کے درمیان فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔